لاہور( رپورٹنگ آن لائن)نامور گلوکار ذیشان روکھڑی نے کہاہے کہ سینئر ہدایتکارہ سنگیتا کے قائل کرنے پر فلم ” مُکھو”میں بطور ہیرو کام کرنے کی حامی بھری لیکن جب معمر رانا کو دئیے جانے والے انتہائی کم معاوضے کا سنا تو فلم کرنے سے انکار کر دیا ، مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ معمر رانا جو فلم انڈسٹری کا اتنا بڑا نام ہیں انہیں صرف 5لاکھ روپے دئیے جارہے ہیںجبکہ میں نے ایک کروڑ روپے معاوضہ طلب کیا تھا۔
ایک انٹر ویو میں گلوکار ذیشان روکھڑی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میں اداکاری کے لئے بنا ہی نہیں تاہم سینئر ہدایتکارہ اور اداکارہ سنگیتا کی خدمات کو دیکھتے ہوئے ان کی دعوت پر ان سے لاہور میں ملاقات کی اور انہیں اداکاری بارے اپنی عدم دلچسپی سے آگاہ کیا ۔ ان کی جانب سے قائل کرنے پر فلم میں کام کرنے پر راضی ہوا اور میں واپس آ گیا ہے ، اس دوران فلم کی شوٹنگ بھی چل رہی تھی اور اس کے کچھ کلپس میری نظر سے گزرے تو مجھے وہی روایتی فلم لگی جس پر میں نے فلم میں کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اسی دوران معاوضے کی بات چل رہی تھی ،
میں نے ایک کروڑ روپے معاوضہ طلب کیا لیکن مجھے بتایا گیا ہم تو معمر رانا کو 5لاکھ روپے معاوضہ دے رہے ہیں جس کی وجہ سے میرا دل بہت برا ہوا اور میں نے باضابطہ طور پر فلم میں کام کرنے سے معذرت کر لی ۔انہوںنے کہا کہ فنکاروں کو اتنا کم معاوضہ دے کر ہم کیسے بھارت کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، اگر فنکاروں کو عزت اور مناسب معاوضہ دیا جائے تو انڈسٹری ترقی کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فلم کے لئے بغیر معاوضہ اپنا ایک گانا دیا ہے اب اسے فلم میں شامل کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی مرضی ہے ۔









