وزیراعظم 445

وزیراعظم کو نوٹس، لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری نہ کرنے پر رپورٹ طلبی کرلی

تنویر سرور۔۔۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن اور جسٹس مذمل اختر شبیر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کے لئے آئین کے مطابق اپوزیشن لیڈر سے مشاورت نہ کرنے پر وزیراعظم سے جواب طلب کرلیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ
شہری تنویر سرور نے ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران اور ایڈووکیٹ ندیم سرورکی وساطت سے دائر کردہ انٹراکورٹ اپیل میں عدالت سے استدعا کی تھی آئین کے آرٹیکل 215 کی کلاز 4 کے تحت الیکشن کمیشن کے ممبران کی سیٹ خالی ہونے کی صورت میں 45 دن کے اندر نئے ممبر کی تقرری کی جائیگی اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر باہمی مشاورت سے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کرینگے اور اختلاف کی صورت
میں تین ناموں کی الگ الگ فہرست پارلیمانی کمیٹی کو ارسال کرینگے۔
ایڈووکیٹ شہبازاکمل جندران
تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبر پنجاب اور ممبر کے پی کے 28 جولائی کو ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور ساڑھے تین ماہ سے بھی زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال کمیشن کے ممبران کی تقرری نہیں کی گئی۔
ایڈووکیٹ ندیم سرور
درخواست گزار نے استدعا کی کہ ڈویژن سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کو اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کے بعد الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کا عمل مکمل کرنے کا حکم جاری کرے
اس سے قبل سنگل بینچ نے درخواست گزار کی پٹیشن مسترد کردی تھی اور قرار دیا تھا کہ رسپانڈنٹس آئین پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔اور اگر انہیں ممبران کی تقرری کے حوالے سے ڈائیریکشن جاری کی تو عدالت قابل نفرت بن جائیگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں