کراچی(رپورٹنگ آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ورلڈ سٹیز ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہروں کی ترقی خوشحال، محفوظ اور پائیدار مستقبل کی ضمانت ہے، سندھ کے شہر ہماری تہذیب، ثقافت، تاریخ اور معاشی ترقی کی حقیقی پہچان ہیں، جن کی جامع ترقی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی سے کشمور اور سکھر سے ساحلی پٹی تک صوبے کا ہر شہر اپنی منفرد تاریخی، ثقافتی اور معاشی اہمیت رکھتا ہے۔
کراچی ملک کا معاشی، صنعتی، تجارتی اور بحری مرکز ہے اور اس کی ترقی سندھ کی مجموعی ترقی سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ حیدرآباد ہماری تہذیبی، ادبی اور ثقافتی شناخت کا اہم مرکز ہے۔انہوں نے کہا کہ سکھر دریائے سندھ، بیراج، تجارت اور تاریخی ورثے کے باعث اہمیت رکھتا ہے، جبکہ لاڑکانہ موہن جو دڑو کے ہزاروں سالہ تاریخی ورثے اور اپنی سیاسی و ثقافتی شناخت کے حوالے سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ میرپورخاص آموں کی سرزمین اور زرعی معیشت کا اہم مرکز ہے، جبکہ نواب شاہ، جیکب آباد، شکارپور اور خیرپور بھی سندھ کی تاریخی، تجارتی اور زرعی شناخت کے اہم مراکز ہیں۔مراد علی شاہ نے جامشورو کو علم، تحقیق، جامعات اور صنعتی ترقی کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹھٹھہ، مکلی، بھمبھور، بدین، سجاول اور کیٹی بندر سندھ کے تاریخی، ساحلی اور ثقافتی ورثے کے اہم امین ہیں۔ اسی طرح تھرپارکر، مٹھی، عمرکوٹ اور سانگھڑ اپنی ثقافتی رنگا رنگی، قدرتی وسائل اور زرعی صلاحیتوں کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
دادو، گھوٹکی، کشمور، نوشہروفیروز، ٹنڈو الہ یار اور ٹنڈو محمد خان سمیت تمام شہروں کی ترقی صوبائی ترقی کے وڑن کا حصہ ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کا عزم ہے کہ تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ صاف پانی، بہتر نکاسی آب، معیاری سڑکیں اور مناسب رہائش شہری ترقی کے بنیادی تقاضے ہیں، جبکہ جدید شہری منصوبہ بندی، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، سرسبز مقامات اور معیاری انفراسٹرکچر وقت کی اہم ضرورت ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہری ترقی کا مقصد صرف بلند عمارتیں تعمیر کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو باعزت، محفوظ اور معیاری زندگی فراہم کرنا ہے۔ ہر شہری کو مناسب اور سستی رہائش کی فراہمی شہری ترقی کی پالیسی کا بنیادی اصول ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں، شدید بارشوں، سیلاب اور گرمی کی لہروں کے اثرات سے محفوظ شہر تعمیر کرنا بھی ناگزیر ہے۔مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ شہری ترقی کے منصوبوں میں خواتین، بچوں، بزرگوں، خصوصی افراد اور کم آمدنی والے طبقات کی ضروریات کو ترجیح دی جائے، جبکہ تاریخی عمارتوں، قدیم مقامات، ثقافتی ورثے اور روایتی بازاروں کا تحفظ بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دنیا کے مختلف شہروں کے تجربات سے استفادہ کرکے سندھ کے شہروں کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکتا ہے۔ کراچی کے بین الاقوامی سسٹر سٹی روابط تجارت، تعلیم، ثقافت، ٹیکنالوجی اور شہری ترقی کے فروغ کا اہم ذریعہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی اور امریکی شہر ہیوسٹن کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات قائم ہیں، جبکہ حیدرآباد اور امریکی شہر ٹولیڈو کے درمیان 2011 سے روابط موجود ہیں۔ اسی طرح کراچی کے چین کے شہروں شنگھائی، ارومچی، چونگ چنگ اور شینیانگ کے ساتھ بھی سسٹر سٹی تعلقات قائم ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان بین الاقوامی روابط کو مزید وسعت دے کر سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم اور جدید شہری ٹیکنالوجی کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور میرپورخاص سمیت سندھ کے تمام شہروں کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا مشترکہ ہدف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ سٹیز ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی یافتہ شہر وہی ہوتا ہے جہاں ہر شہری کو یکساں مواقع اور بنیادی سہولیات میسر ہوں۔
شہری ترقی کے سفر میں عوام، بلدیاتی اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کی شراکت داری ضروری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا وڑن جامع، محفوظ، سرسبز اور معاشی طور پر مستحکم شہر تعمیر کرنا ہے، جبکہ شہروں کی ازسرنو تعمیر و بحالی اور سب کے لیے محفوظ، سستی اور معیاری رہائش کی فراہمی بھی اس وڑن کا حصہ ہے۔اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے شہروں کو صاف، خوبصورت، جدید اور محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ سندھ کے شہر دنیا کے لیے قابلِ فخر بن سکیں۔








