محمد جاوید قصوری 12

ٹیکس چوری کا بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جارہا ، لیوی ٹیکس ظالمانہ اقدام ، ختم کیا جائے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی حقیقی ترجمان ہے اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف میدان عمل میں موجود ہے، لیوی ٹیکس ایک ظالمانہ اقدام ہے جس کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی گزشتہ دو ماہ سے سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے، حکومت نے اگر عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا اور لیوی ٹیکس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرے گا، کارکنان بھرپور تیاری کریں، نومبر کے وسط میں لانگ مارچ کیا جائے گا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منصورہ میں اہم اجلاس اور بعد ازاں فیصل آباد میں نو منتخب امرائے اضلاع کی تقاریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے میاں طاہر ایوب، امیر جماعت اسلامی فیصل آباد سٹی، باسم سعید چودھری، امیر جماعت اسلامی جڑانوالہ، خالد محمود چہل ایڈووکیٹ، امیر جماعت اسلامی گوجرانوالہ اور یاسر اقبال کھارا ایڈوکیٹ امیر ضلع فیصل آباد صدر سے حلف لیا ۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جہاں موروثیت کا کوئی تصور نہیں۔ یہاں امیر جماعت سے لے کر نچلی سطح تک باقاعدہ جمہوری انتخابات کے ذریعے قیادت منتخب ہوتی ہے۔ عام کارکن کو بھی اپنی صلاحیت، محنت اور جدوجہد کی بنیاد پر آگے بڑھنے اور اعلیٰ ذمہ داریاں حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جماعت اسلامی کا یہ جمہوری اور انتخابی نظام دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے بھی قابل تقلید مثال ہے۔

ملکی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، محصولات کے بلند اہداف، بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ اور آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے دباؤ نے حکومت کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ ملک کے 18 اہم شعبوں میں ٹیکس چوری، آمدن چھپانے اور غیر قانونی پیداوار کے باعث سالانہ تقریباً 1600 ارب روپے کا نقصان قومی خزانے کو پہنچ رہا ہے۔ حکومت ان شعبوں میں ٹیکس چوری روکنے اور اپنے اداروں میں شفافیت قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جس کا سارا بوجھ عام آدمی پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بے روزگاری نے عام شہری کا جینا محال کر دیا ہے، غریب خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں، مگر حکمرانوں کی عیاشیوں، پروٹوکول اور سرکاری مراعات میں کسی قسم کی کمی نہیں آ رہی۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے نت نئے ٹیکس عائد کر رہی ہے۔محمد جاوید قصوری نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ جب ملک میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری موجود ہے تو اس کا بوجھ پہلے سے مشکلات کا شکار عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟۔ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس چوری کا خاتمہ کیا جائے، اشرافیہ کی غیر ضروری مراعات ختم کی جائیں، حکومتی اخراجات کم کیے جائیں اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں