ہائیکورٹ 14

لاہور ہائیکورٹ،24سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کیخلاف دائر درخواست خارج

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)پنجاب کے سرکاری شعب صحت کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، لاہور ہائیکورٹ نے 24ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کے خلاف درخواست خارج کر دی۔لاہور ہائیکورٹ میں قانونی کارروائی کے دوران محمد ذیشان اختر ایڈووکیٹ نے میسرز ورٹیکس میڈیکل کی جانب سے مقدمے کی پیروی کی، ورٹیکس میڈیکل عالمی شہرت یافتہ طبی ٹیکنالوجی کمپنی سیمنز کی تیار کردہ سی ٹی سکین مشینوں کی فراہمی کے لیے کامیاب بولی دہندہ قرار پائی تھی۔

اس منصوبے کی سربراہی سیکرٹری صحت و آبادی نادیہ ثاقب نے کی، جنہوں نے سرکاری ہسپتالوں کے تشخیصی نظام کو جدید اور موثر بنانے کے مقصد سے 24سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کے عمل کو آگے بڑھایا۔اس اقدام سے سرکاری ہسپتالوں کی ادارہ جاتی استعداد میں اضافے، تشخیصی خدمات کے لیے آئوٹ سورسنگ پر انحصار کم کرنے اور مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں کے اندر ہی اہم تشخیصی سہولیات کی بہتر فراہمی کی توقع ہے، اس خریداری کے نمایاں پہلوں میں سے ایک اس کی غیر معمولی طور پر مسابقتی قیمت بھی ہے۔خریداری کا عمل شروع ہونے کے بعد اسے مختلف قانونی اور انتظامی فورمز پر سخت چیلنجز اور اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا، اس منصوبے کی قانونی حیثیت، تکنیکی موزونیت اور مفادِ عامہ سے متعلق پہلوں پر اعتراضات اٹھائے گئے، جس کے باعث محکمہ صحت کو اس اقدام کو آگے بڑھانے میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عدالتی کارروائی کے دوران اس معاملے کا پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی میں بھی جائزہ لیا گیا۔لاہور ہائی کورٹ میں کارروائی اور ریگولیٹری سطح پر معاملے کے جائزے کے بعد ایم ڈی پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی شہزادی وسیمہ عمر نے خریداری سے متعلق تنازع کے حل میں اہم کردار ادا کیا اور معاملے کو مدلل اور قانونی بنیادوں پر آگے بڑھایا۔بعد ازاں یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کی صورت میں پیش ہوا، عدالت نے درخواست خارج کر دی، جس کے نتیجے میں مذکورہ خریداری کے منصوبے کو عدالتی مداخلت کے بغیر آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔عدالت عالیہ نے اپنے مشاہدے میں قرار دیا کہ درخواست گزار پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014ء کی کسی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا اور نہ ہی خریداری کے اس عمل کو قواعد کے تحت غلط یا غیر قانونی خریداری قرار دینے کی بنیاد موجود تھی۔عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عوام کو تشخیصی اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اِن ہائوس انتظامات کی جانب پیش رفت کرنا انتظامیہ کا قانونی اختیار ہے۔

عدالت کے مطابق تکنیکی، مالی اور پالیسی سے متعلق معاملات بنیادی طور پر متعلقہ انتظامی حکام اور ماہرین کے دائر اختیار میں آتے ہیں، اور ایسے معاملات میں عدالت انتظامی حکام کے فیصلوں کی جگہ اپنا فیصلہ مسلط نہیں کر سکتی۔آئینی درخواست کی برخاستی کو ایک اہم عدالتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے محکمہ صحت کے اس منصوبے کو ایک بڑے قانونی چیلنج کے باوجود قانونی تحفظ حاصل ہوا ہے، اس ضمن میں ایم ڈی پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی شہزادی وسیمہ عمر کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اس خریداری کے منصوبے کی کامیاب تکمیل سے پنجاب کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں جدید تشخیصی سہولیات کی دستیابی بہتر ہونے اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں