محمد جاوید قصوری 40

حکومتی پیکیج کسانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ، مسترد کرتے ہیں’جماعت اسلامی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے کسانوں کے لئے اعلان کردہ پیکیج کو لالی پاپ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کے احتجاج کو ختم کرانے اور ان کی آواز کو دبانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اس پیکیج کا اعلان کیا ہے .

جس کا سر ہے اور نہ کوئی پیرا، کاشتکاروں کے احتجاج سے پریشان ہو کر حکومت نے محض کسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت اس حوالے سے کتنی سنجیدہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب شاید کسانوں کی دکھ اور تکالیف کو محسوس کریں گئیں ، انھیں ریلیف دیں گئیں ، گندم کی امدادی قیمت کو بہتر اور ٹیکسوں میں کمی لاکر شعبہ زراعت سے وابستہ افراد کو سکھ کا سانس لینے دیں گئیں مگر الٹا انھوں نے کاشتکاروں کو یہ پیکیج دیکر مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔

اس پیکیج کی تفصیلات کے مطابق کاشتکار گندم اسٹور کروائے گا اور اس کے اوپر 70فیصد تک بنکوں سے قرض حاصل کر سکے گا ، یعنی حکومت کسان کو اس کی گندم کی قیمت نہیں بلکہ قرض کے بوجھ تلے دبا رہے ہیں۔پنجاب کے کسان کو قرض نہیں چاہئے اسے اپنی فصل کی قیمت چاہئے۔کسان حکومت سے خیرات نہیں مانگ رہا وہ اپنے خون پسینے کی محنت کا صلہ مانگ رہا ہے ۔اس پیکیج کا اصل فائدہ بڑے سرمایہ داروں کو ہوگا جس سے کرپشن کے دروازے کھلیں گئے ۔ لوگ لوٹ مار کرکے اپنی تجوریاں بھریں گئے اور ایک مرتبہ پھر کسانوں کو کچھ میسر نہیں ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومتی پیکیج کسانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت کسانوں کو حقیقی معنوںمیں ریلیف فراہم کرے ، گندم کی قیمت 4000مقرر کی جائے اور پوری قیمت پر فصل اٹھائی جائے۔ پنجاب حکومت کسانوں اور زراعت کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ25کروڑ پاکستانیوں کا غذائی تحفظ کسان کو تحفظ فراہم کئے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے قوم کو بھکاری بنانے کی بجائے ، عوام کو ان کا حق دے ۔ آٹے پر سبسڈی دیکر روٹی سستی کی جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں