لیاقت بلوچ 34

لیاقت بلوچ کا ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتحال پر تشویش کا اظہار

نوشہرہ(رپورٹنگ آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کو عملا معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ مفاد پرستی، ذاتی انا اور فرسودہ طرزِ سیاست نے ریاستی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔نوشہرہ میں جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقدہ ڈونرز کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایک نازک اور گمبھیر صورتحال سے گزر رہا ہے، جہاں آئین و قانون کی بالادستی نظر نہیں آتی اور ریاستی ادارے ذاتی مفادات کی نذر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں کے خودساختہ نظامِ حکومت کے باعث آئینی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے اور مصنوعی سہاروں پر قائم حکومت عوام کے لیے مسائل کا باعث بن گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ دیرپا انصاف اور مضبوط معاشی پالیسیوں کے ذریعے چلتی ہیں۔جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما نے پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت اور وفاق میں اپوزیشن کے طور پر جماعت اپنی ذمہ داریاں مثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں طویل عرصے سے حکومت کے باوجود تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی مسائل حل طلب ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کو نمائشی اقدامات کے بجائے عوامی مسائل کے عملی حل پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ ان کے بقول، جب تک عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا، عمران خان کی رہائی کی تحریک بھی مثر ثابت نہیں ہو سکے گی۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ موجودہ حالات میں قیمتیں بڑھانے کا کوئی جواز نہیں، مگر حکمران اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے بوجھ عوام پر منتقل کر رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتقامی سیاست کا خاتمہ کیا جائے اور تمام ادارے و سیاسی جماعتیں ذاتی انا سے بالاتر ہو کر ریاست کے استحکام اور آئین کی بالادستی کے لیے سنجیدگی سے کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں