لاہور( رپورٹنگ آن لائن) پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا کہ خواتین میں سرطان کے کیسز میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ایک جدید، جامع اور مخصوص بریسٹ و گائنا کالوجیکل کینسر انسٹیٹیوٹ کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ امراضِ نسواں کے زیرِ اہتمام منعقدہ “گائنا کالوجی کانفرنس “2026کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا ادارہ تحقیق، جدید تشخیص، مؤثر علاج اور پیشہ ورانہ تربیت کا مرکز بن کر ہزاروں خواتین کی زندگیوں کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ سرطان کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار بروقت تشخیص ہے، اس لیے ابتدائی علامات اور احتیاطی تدابیر سے متعلق عوامی آگاہی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے طب کے میدان میں انقلابی پیش رفت ممکن بنائی ہے، جس کے نتیجے میں پیچیدہ امراض کی بروقت تشخیص اور علاج پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان اور قابلِ رسائی ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہرینِ طب اب روایتی طریقہ علاج سے آگے بڑھ کر جدید سائنسی اصولوں کی روشنی میں خواتین کے سنگین امراض، خصوصاً چھاتی اور رحم کے کینسر کے خلاف مربوط حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔ کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز ماہرینِ امراضِ نسواں، سینئر اساتذہ اور طبی ماہرین نے شرکت کی۔ مختلف سیشنز میں سرطان کی اقسام، جدید تشخیصی طریقہ کار اور علاج کے تازہ رجحانات پر علمی تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے معالجین کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں نمایاں بہتری آئی۔
پروفیسر فاروق افضل نے کانفرنس کو خواتین کی صحت کے فروغ کے لیے سنگِ میل قرار دیتے ہوئے منتظمین پروفیسر ندرت سہیل، پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، پروفیسر آمنہ خانم، ڈاکٹر سائرہ زیشان اور شعبہ امراضِ نسواں کی پوری ٹیم کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔ اختتام پر شرکاء میں اسناد اور یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ شرکاء نے کانفرنس کو تحقیقی و تربیتی اعتبار سے بھرپور قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مستقبل میں خواتین کے امراض، بالخصوص سرطان کے خلاف مؤثر حکمت عملی کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگی۔









