صدر جولئیس 21

چین اور سیرا لیون کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، صدر سیرا لیون

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)سیرا لیون کے صدر جولئیس مادا بائیو نے نیویارک میں چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔

ہفتہ کے روز چین کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین اور سیرا لیون کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ ان تعلقات کا رخ ترقی کی جانب ہے اور ان کا بنیادی ستون باہمی احترام ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دوطرفہ تعلقات مزید آگے بڑھ سکتے ہیں۔ چین ثابت کر چکا ہے کہ وہ سیرا لیون کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے۔صدر جولئیس مادا بائیو نے کہا کہ کرونا وبا کے مشکل دور میں بھی، چین نے فوری طور پر مدد کا ہاتھ بڑھایا اور سیرا لیون کو ملنے والی ابتدائی ویکسینز میں سے کچھ چین کی جانب سے آئی تھیں۔

انہوں نےاس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پھنگ نے خصوصی طور پر ان سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور سیرا لیون میں وبا کے دوران کے حالات دریافت کیے ۔ایسے وقت جب دنیا کے تمام ممالک اپنے اپنے معاملات میں الجھے ہوئے تھے، یہ اقدام احترام اور اخلاص سے لبریز تھا، جو آج کی دنیا کو سب سے زیادہ درکار ہے۔انہو ں نے کہا کہ اپنے عوام کی خدمت کرنا ہر ملک کے رہنما کے فرض ہے اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب عالمی رہنما ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں ، تجربات شیئر کریں ، ہمدردی کا جذبہ رکھیں اور یوں اس خیر سگالی کا فائدہ عام شہریوں تک پہنچتا ہے ۔ چین نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک قابل اعتماد دوست ہے۔

زراعت کے شعبے میں دونوں ممالک کے تعاون کے بارے میں سیرا لیون کے صدر نے کہا کہ چین پہلے ہی سیرا لیون کا شراکت دار ہے۔ چین نے زرعی انقلاب میں کامیابی حاصل کی ہے اور ان کے علم کے مطابق ، تمام ترقی یافتہ صنعتی ممالک نے پہلے زراعت کے راستے کو اپنایا اور خوراک کی سلامتی کو یقینی بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی خودمختاری کے علاوہ، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں خوراک کی خودمختاری بھی حاصل ہو، اور یہی وہ وجہ ہے کہ وہ زراعت کے فروغ کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ سال 2026 افریقہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی سترویں سالگرہ ہے۔

چین نے فیصلہ کیا ہے کہ یکم مئی 2026 سے 53 افریقی ممالک پر جن کے ساتھ چین کے سفارتی تعلقات ہیں، مکمل طور پر صفر محصولات کا اطلاق کیا جائے گا۔ یہ ایک نئے دور کے غیر معمولی چین-افریقہ ہم نصیب معاشرے کی عملی مثال ہے۔ اس کے ذریعے، چین دنیا کی پہلی بڑی معیشت بن گیا ہے جس نے اپنے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے تمام افریقی ممالک اور تمام کم ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ یکطرفہ اور مکمل کوریج کے ساتھ صفر محصولات کا اعلان کیا ہے۔سیرا لیون کے صدر نے کہا کہ ہم ایک ایسے چین کی توقع کرتے ہیں جو دوستوں کے ساتھ مل کر ترقی کرے کیوں کہ ترقی اور دوستی میں کوئی تضاد نہیں۔ چین اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ دوستوں کو بھی ساتھ لے کر چلتا ہے اور اس رویے سے ایک پر امن دنیا کا قیام آسان ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں