بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)2026 بیجنگ بین الاقوامی آٹو موٹیو نمائش میں 21 ممالک اور خطوں کی دو ہزار سے زائد سپلائی چین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں نے شرکت کی، جس میں تمام زمروں، شعبوں اور سطحوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ 1,451 گاڑیوں کی نمائش کی گئی، جن میں 181 نئی لانچ شدہ گاڑیاں اور 71 کانسیپٹ ماڈلز شامل ہیں۔ چینی برانڈز نے 42 مرکزی ٹیکنالوجیز جاری کیں، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ چین آٹوموٹیو اختراع کے لیے ” کشش کا مرکز” اور عالمی آٹو موٹیو انڈسٹری کے لیے ایک “قوت کا مرکز” بن گیا ہے.
تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ چین کی منفرد “اسٹرکچرل اختراعی برتری” میں مضمر ہے، جس نے نہ صرف خام مال اور بنیادی اجزاء سے لے کر گاڑیوں کی تیاری تک ایک مکمل مربوط نظام تشکیل دیا ہے، بلکہ بیٹریوں، خودکار ڈرائیونگ اور اسمارٹ کیبن جیسی ٹیکنالوجیز میں نمایاں پیش رفت کے باعث عالمی آٹو موٹیو انڈسٹری کے لیے “جدت کا ذریعہ” بھی بن گیا ہے۔
برسوں کی انتھک کوششوں کے بعد، چین کی گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت مسلسل 17 سالوں سے دنیا میں پہلے نمبر پر رہی ہے۔ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں، چین کی گاڑیوں کی برآمدات میں سال بہ سال 56.7 فیصد کا اضافہ ہوا، جس میں سے نئی توانائی کی حامل گاڑیوں کی برآمدات میں سال بہ سال 120 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ چینی کار ساز ادارے “مصنوعات کی برآمد” سے “ایکو سسٹم کی برآمد” کی جانب بڑھ رہے ہیں اوربیرون ملک فیکٹریوں کی تعمیر، آر اینڈ ڈی مراکز اور جوائنٹ وینچرز کے قیام سمیت دیگر طریقوں سے اپنی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں، سپلائی چینز، اور یہاں تک کہ تکنیکی معیارات کو دنیا میں منتقل کر رہے ہیں اور یوں دنیا کی سبز تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم معاون بن رہے ہیں۔









