صوبائی وزیر راجہ بشارت

صوبائی وزیر راجہ بشارت کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی کا اجلاس، متعدد فیصلوں کی منظوری

لاہور ( رپورٹنگ آن لائن) پنجاب کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے امور قانون سازی نے جیل وارڈرز کی بھرتی پر پابندی اٹھانے، دو تحصیلوں میں سیشن کورٹس اور مختلف علاقوں میں ہائی سکیورٹی زونز کے قیام سمیت متعدد امور کی منظوری دیدی ہے، کمیٹی کا اجلاس یہاں سول سیکرٹریٹ میں ہوا۔ چیئرمین ووزیر پارلیمانی امور، کوآپریٹوز، تحفظ ماحول محمد بشارت راجہ نے بذریعہ ویڈیو لنک راولپنڈی سے صدارت کی۔ وزیر قانون خرم شہزاد ورک، سیکرٹری قانون اختر جاوید، سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی سمیت دیگر متعلقہ افسروں نے بھی شرکت کی۔

اجلاس نے محکمہ داخلہ کی درخواست پر ضلع بھکر کی تحصیل دریا خان، اور ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل چوک سرور شہید میں سیشن کورٹس کے قیام کی منظوری دی۔ کابینہ کمیٹی نے پنجاب کی جیلوں میں ہندو، سکھ اور مسیحی قیدیوں کو اپنے عقیدے کے تعلیمی کورسز کرنے پر سزا میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا تاہم چیئرمین کمیٹی نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کو ہدایت کی کہ اقلیتی عقائد سے متعلق غیرمتنازعہ نصاب تیار کئے جائیں اور ان کی منظوری متعلقہ مذہب کے ممتاز سکالرز اور محکمہ تعلیم سے لی جائے۔ کابینہ کمیٹی نے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ادارے ٹیوٹا کے زیر اہتمام تربیتی کورسز کرنے والے قیدیوں کی بھی سزا میں تخفیف کی منظوری دی۔

جیلوں میں وارڈرز کی کمی دور کرنے کے لئے بھرتی کی منظوری دیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی محمد بشارت راجہ نے کہا کہ زیادہ تعلیمیافتہ افراد کی بھرتی سے جیلوں کا کلچر بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تعلیمی اہلیت میٹرک ٹھیک ہے تاہم زیادہ تعلیمیافتہ افراد کے امیدوار بننے کی بھی گنجائش رکھی جائے۔

قائمہ کمیٹی برائے امور قانون سازی نے جنسی جرائم کے کیسوں کی تفتیش کے لئے 115 سپیشل سیکسوئل آفنسز انویسٹی گیشن یونٹس (ایس ایس او آئی یوز) کے قیام کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے اعتراض کیا کہ عام طور پر جنسی زیادتی کا زیادہ شکار خواتین ہوتی ہیں لہذا مجوزہ ایس ایس او آئی یوز میں سارا سٹاف خواتین کا رکھا جائے یا پھر خواتین کی مخصوص تعداد تعینات کریں۔ اس ضمن میں حتمی فیصلہ سب کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ کابینہ کمیٹی نے پنجاب چیریٹیز ایکٹ کے تحت چیریٹیز کمیشن کی تشکیل نو، راولپنڈی میں انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے قیام، پنجاب کے شہروں لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں 3 خودمختار اینوائرنمنٹل ٹربیونل قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

ڈی جی خان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پانچ ارکان کی تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی۔ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ایم پی ایز حنیف خان پتافی، سردار علی خان دریشک، شاہینہ طیب کھوسہ اور دو ٹیکنیکل ممبر شامل کئے گئے ہیں۔ پنجاب میں اسلحہ لائسنسوں کے اجرا پر پابندی اٹھانے کی منظوری وزیراعلی کی ہدایات سے مشروط کر دی گئی ہے۔