سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کافیصلہ عمران خان کی جدوجہد کی تائید ہے، پی ٹی آئی

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کافیصلہ عمران خان کی جدوجہد اور تحریک انصاف کے موقف کی تائید ہے، فیصلے نے راستہ دیکھایا ہے کہ سینیٹ انتخابات کو شفاف کیسے بنایا جا سکتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ شفاف اور کرپشن سے پاک انتخابات کا انعقاد کرے، سیکریسی آف بیلٹ کے بارے میں الیکشن کمیشن زمینی حالات اور اس کے خدوخال دیکھا کر فیصلہ کر سکتا ہے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے پہلے اوپن بیلٹنگ پر حامی بھری ، نون لیگ نے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا ، اب آ کر مکر گئے ہیں ۔

پیر کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنماﺅں وفاقی وزراءشفقت محمود، فواد چوہدری، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل،سینیٹر فیصل جاوید،بابر اعوان اور شہزاد اکبر نے سپریم کورٹ کی جانب سے سینیٹ انتخابات 2021کے حوالے سے رائے کے فیصلے پر چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ تحریک انصاف کے موقف کی تائید ہے اسے مزید آگے بڑھانے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں بدعنوانی اور کرپشن کو ختم ہونا چاہیے، سپر یم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو ہدایات کی ہیں کہ ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے کرپشن اور بدعنوانی کے بازار کو روکا جاسکے۔ میڈیا سے گفتگو میں سینئر رہنما تحریک انصاف بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحریک انصاف ک موقف اور حکومت پاکستان سے آگاہ کیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیکریسی آف بیلٹ کے بارے میں الیکشن کمیشن زمینی حالات اور اس کے خدوخال دیکھا کر فیصلہ کر سکتا ہے، فیصلہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس آئین کے مطابق 5اختیارات ہیں، ایمانداری سے الیکشن ہوجو تمام سیاسی جماعتوں سے منسلک ہے، سارے ایم پی ایز اور سارے ووٹرز کی طرف سے جس کا ووٹ ہے، دیانتداری سے اس کو ہی دیا جائے،شفاف طریقہ سے الیکشن میں جائے جبکہ شفافیت کا مطلب یہ ہے کہ جس پارٹی کا ٹکٹ لیا ہے اس کے ہی ساتھ جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شفاف انتخابات کے حوالے سے فیصلہ کن مرحلہ ہے کیونکہ آئین کہتا ہے کہ ایوان بالا میں ووٹ اوپن اور قابل شناخت ہونا چاہیے جبکہ وزیراعظم عمران خان کی بھی کوشش ہے کہ اس مرتبہ سینیٹ انتخابات میں کوئی داغ ندامت اور نہ ہی کوئی خریدوفروخت کی منڈی لگے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف نے اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کیونکہ اگر ادارے مضبوط ہوتے ہیں تو جموہریت مضبوط ہوتی ہے اور ملک مضبوط ہوتے ہیں جبکہ اسی وژن کے تحت ہم نے الیکشن کمیشن کو بھی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں مدعا ہمارا صرف یہی تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سیکریسی آف بیلٹ سیاسی پارٹیوں کےلئے تو قبضہ ہو گا لیکن الیکشن کمیشن کےلئے یہ اوپن ہو گا اور اگر ہارس ٹریڈنگ یا ووٹ بیچنے کے الزامات آتے ہیں تو الیکشن کمیشن ان اصولوں پر عملدرآمد ہوئے انکوائری کر سکے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ 2013سے عمران خان سینیٹ انتخابات میں شفافیت کے وصولوں کےلئے جدوجہد کر رہے ہیں، نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے پہلے اوپن بیلٹنگ پر حامی بھری ، نون لیگ نے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا لیکن اب آ کر مکر گئے ہیں، دونوں جماعتیں ہر ایسے عمل کے خلاف ہیں جو شفافیت لائے، اپوزیشن جان بوجھ کر انتخابات کو متنازعہ بنانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلہ نے تقویت دی ہے اور اب الیکشن کی ذمہ داری ہے کہ اس پر مکمل عمل کروائے۔ شفقت محمود نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے راستہ نظر آیا ہے کہ کس طرح شفاف الیکشن ہو گا راستہ یہ ہے کہ ووٹر کو معلوم ہو گا کہ اس کا ووٹ چیک ہو سکتا ہے، تو وہ بدعنوانی سے باز رہے گا، تحریک انصاف بیلٹ پر بار کوڈ لگایاجائے کہ معلومات آسانی سے ہو سکے۔