اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 2017ء سے 2022ء کے دوران اوور انوائسنگ کے مکروہ دھندے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی تیز تر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی مسلسل غفلت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا جس میں اوور انوائسنگ کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزراء مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور اعلی سرکاری حکام شریک ہوئے۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2017ء سے 2022ء کے دوران اوور انوائسنگ کامکروہ دھندا چلتا رہا اور متعلقہ ادارے اپنے فرائض سے مسلسل غافل رہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس دھندے میں مرتکب تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی تیز تر کی جائے۔ وزیراعظم نے مشتاق احمد سکھیرا کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کی توصیف کرتے ہوئے غفلت کے مرتکب افراد کا تعین کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا پیسہ قوم کی امانت ہے، اس کی حفاظت ہمارا فرض اور ایک ایک پائی کا حساب دینا ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ایسے واقعات کو مستقبل میں روکنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ(ایف ایم یو) کو ایک فعال ادارہ بنانے اور اس میں ایف آئی اے اور انٹیلیجنس بیورو کے نمائندے شامل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی ار نے سنٹرلائز پرائس ویریفکیشن پورٹل بنایا ہے، جون کے آخر تک یہ پورٹل بینکوں کے ساتھ منسلک ہو جائے گا۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے پوسٹ کلیئرنگ آڈٹ ونگ نے اکتوبر 2022ء میں اس اوور انوائسنگ دھندے کی نشاندہی کی۔ اس دوران مرتکب افراد کے خلاف 13 ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں اور قانونی کارروائی جاری ہے۔









