حافظ نعیم الرحمن 54

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے، حافظ نعیم الرحمان

لاہور(رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو جماعت اسلامی نے چیلنج کیا ہے، پنجاب حکومت کا یہ ایکٹ آئین سے متصادم ہے، نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ صوبوں کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا ایکٹ لیکر آئی ہے جس میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتے، اس ایکٹ کے مطابق عوام براہ راست اپنا چیئرمین منتخب نہیں کرسکتے، یہ پنجاب حکومت کا غیر جمہوری اقدام ہے، یو سی کا چیئرمین پندرہ بیس ہزار آبادی کا نمائندہ ہوتا ہے، چیئرمین منتخب کرنے کا اختیار اس یوسی کی عوام کے پاس نہ ہونا قابل افسوس ہے، یہ پیسوں کی منڈیاں لگانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ جیسی پارٹیاں آبائی پارٹیوں کی طرح چلتی ہیں، ان کے گھر پیدا ہونے والا بچہ بھی اس پارٹی کا مالک ہوتا ہے، یہ اپنی پارٹی کے بندے کو آگے نہیں آنے دیتے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ہے، پاکستان میں 49 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے، یہ عوام کو دیگر مسائل میں مبتلا کرکے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے چاہتے ہیں۔قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس سلطان تنویر نے جماعت اسلامی، پی ٹی آئی سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت لیکر پیش ہونے کا حکم دے دیا، پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ بلدیاتی انتخابات میں کسی سیاسی جماعت سے امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین اور وائس چیئرمین کا الیکشن براہ راست ہوگا، پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ سینیٹ اور اسپیکر کا الیکشن بھی ان ڈائریکٹ ہوتا ہے، منتخب نمائندے ہی اپنا سرپرست چنتے ہیں۔جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ سینیٹ تو ایوان بالا ہوتا ہے، کیا پیچھلے ایکٹ میں بھی چیئرمین وائس چیئرمین کا الیکشن ان ڈائریکٹ ہوتا تھا، کیا ضلع ناظم کا الیکشن ان ڈائریکٹ ہوتا تھا؟۔جسٹس سلطان تنویر نے پنجاب حکومت کے وکیل کو ہدایت دی کہ آپ اس حوالے سے تقابلی رپورٹ پیش کریں، آپ گزشتہ بلدیاتی ایکٹ سے تقابلہ کرکے بتائیں کہ ماضی میں کیا صورتحال تھی۔

درخواستگزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت مین دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں تمام ممبران ڈائریکٹ آتے ہیں، ممبران اپنے میں سے اسپیکر کا انتخاب کرتے ہیں، یہ بلدیاتی انتخابات کو سینیٹ کا الیکشن بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا سندھ میں بلدیاتی انتخابات ڈائریکٹ ہوا تھا۔سماعت کے دوران امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان بھی روسٹرم پر آگئے، انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات ڈائریکٹ ہوا تھا، دنیا میں بلدیاتی انتخابات ڈائریکٹ ہوتے ہیں، اگر آپ یونین کونسل کی سطح پر بھی الیکشن ڈائریکٹ نہیں کراسکتے تو کیسی جمہوریت ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ کوئی مارشل لا تو ہے نہیں کہ ایک ووٹ سے نو لوگ منتخب ہوجائیں، پھر یہ کہتے ہیں کہ ایک ماہ بعد امیدوار پارٹی کو جوائن کرے گا، پھر یہ بھی بتا دیں کہ کونسی پارٹی کو جوائن کرنی ہے۔

جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ الیکشن پارٹی بنیادوں پر ہوگا، تمام امیدوار پارٹی پرچم تلے اپنی انتخابی مہم چلائیں گے، تمام امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری ہونگے۔فاضل جج نے کہا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے عدلیہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتی، ہم صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتے ہیں کہ اگر کوئی غیر آئینی کام ہوا ہو، نئے بلدیاتی ایکٹ میں بہت سے سوالات کا جواب آنا باقی ہے، ہم اس کیس میں تمام فریقین کو مکمل موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں، ہم الیکشن کمیشن کو بھی مکمل موقع دیں گے۔

جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کروا رہا، عدالت کی جانب سے کوئی قدغن نہیں ہے کہ الیکشن نہ کرایا جائے، کل کو آپ عدالتوں پر نہ ڈال دیں کہ عدالت نے الیکشن نہیں ہونے دیا۔ عدالت نے درخواستوں پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں