حلیم عادل شیخ 47

محسن نقوی کا کاروباری برادری کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنا ایک خطرناک رجحان ہے،حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے کاروباری برادری سے متعلق حالیہ بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور تشویشناک قرار دیا ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی کی کاروباری برادری کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنا ایک خطرناک رجحان ہے، جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقہ کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، جسے تحفظ اور اعتماد دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کراچی ملک کی معیشت کا مرکز ہے اور قومی ریونیو میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے، تاہم شہر کو نہ تو عالمی معیار کا انفراسٹرکچر ملا، نہ تسلی بخش امن و امان اور نہ ہی کاروبار کے لیے آسان ماحول فراہم کیا گیا۔انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برسوں کی حکمرانی کے باوجود کراچی کے مسائل حل نہیں کیے گئے، اس کے باوجود کاروباری برادری ملکی معیشت کو سہارا دے رہی ہے، جسے ہراساں کرنا ناانصافی ہے۔

انہوں نے وزیر داخلہ کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ دو تین افراد کو اٹھانے سے پیسہ واپس آ سکتا ہے، اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو احتساب کا رخ درست کرنے کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اگر گزشتہ تین برسوں میں تقریبا 100 ارب روپے بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی تعین کی جائے کہ اس دوران اقتدار میں کون تھا اور کن وجوہات کی بنا پر سرمایہ ملک سے باہر گیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام نے معاشی بحران کو مزید بڑھایا ہے اور سرمایہ کار عدم تحفظ کے باعث سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ بڑے کرپشن کیسز سے احتساب کا آغاز کیا جائے، دبئی لیکس سمیت دیگر اسکینڈلز کی تحقیقات کی جائیں اور لوٹی گئی قومی دولت کو بلا امتیاز واپس لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو خوفزدہ کرنے کے بجائے انہیں سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا، کیونکہ پاکستان کو دھمکیوں کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں