بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) نے ٹیسٹنگ لیبارٹریوں پر پابندیوں کو منظور کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جس کے مطابق یکم دسمبر دوہزار اٹھائیس سے چین سمیت نام نہاد ” نان ریسیپروکل اکانومیز ” میں واقع ٹیسٹنگ لیبارٹریوں، ٹیلی کمیونیکیشن سرٹیفیکیشن باڈیز، اور لیبارٹری ایکریڈیٹیشن باڈیز کی اجازت پر پابندی لگا دی جائےگی اوران ” نان ریسیپروکل اکانومیز ” میں ایف سی سی سے متعلقہ ٹیسٹنگ، سرٹیفیکیشن، یا ایکریڈیٹیشن کا کاروبارمنع کیا جائےگا۔
30 اکتوبر کو، چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ایک عرصے سے، امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن نے دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چین کے خلاف بار بار پابندیوں کے اقدامات متعارف کرائے ہیں، جس سے چین کے مفادات اور دیگر متعلقہ تجارتی شراکت داروں کواور دونوں ممالک کے اقتصادی و تجارتی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ چین اس پر شدید عدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کرتا ہے اور اس کے جواب میں پہلے ہی جوابی اقدامات کر چکا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ امریکہ عالمی اقتصادی ترقی اور صنعتی تعاون اور ڈویژن آف لیبر کے معروضی قوانین کو نظر انداز کرتا ہے اور انتظامی ذرائع سے مارکیٹ کے انتخاب میں مداخلت کرتا ہے جس سے بالآخر امریکی کاروباروں اور صارفین کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ترجمان نے امید کا اظہار کیا کہ امریکہ مارکیٹ کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے متعلقہ اقدامات کو فوری طور پر واپس لے گا۔ بصورت دیگر،چین اپنے جائز حقوق و مفادات کے مضبوط تحفظ کے لیے مزید ضروری اقدامات کرے گا۔








