ہائیکورٹ 82

لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کیخلاف درخواستوں پر سماعت ،پنجاب حکومت سے تقابلی رپورٹ طلب

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کے خلاف کیس میں پنجاب حکومت کے لاء افسر کو دیگر صوبوں کے بلدیاتی قوانین سے متعلق تقابلی چارٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی تاکہ نئے قوانین کا جائزہ لیا جا سکے۔

ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد نے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سمیت دیگر درخواست گزار عدالت میں پیش ہوئے۔ اپوزیشن لیڈر معین الدین ریاض قریشی اور جماعت اسلامی لاہور کی جانب سے دائر درخواستوں پر بھی سماعت کی گئی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اسد غازی جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران عارف رانجھا پیش ہوئے۔ دوران سماعت عدالت نے بلدیاتی انتخابات کے طریقہ کار پر متعدد اہم سوالات اٹھائے۔

جسٹس سلطان تنویر احمد نے استفسار کیا کہ چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب براہ راست ہوگا یا بالواسطہ؟ ۔اس پر پنجاب حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ سینیٹ اور اسپیکر کے انتخابات بھی بالواسطہ ہوتے ہیں اور منتخب نمائندے ہی اپنے قائدین کا انتخاب کرتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سینیٹ ایک ایوان بالا ہے جبکہ بلدیاتی نظام کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا ماضی کے بلدیاتی قوانین میں بھی چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب بالواسطہ تھا اور کیا ضلع ناظم کا انتخاب بھی اسی طریقے سے کیا جاتا تھا۔ عدالت نے اس حوالے سے تفصیلی تقابلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا پنجاب اسمبلی کے تمام اراکین براہ راست منتخب ہوتے ہیں اور بعد ازاں اپنے میں سے اسپیکر کا انتخاب کرتے ہیں تاہم بلدیاتی انتخابات کو سینیٹ طرز پر تبدیل کرنا درست نہیں۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے موقف اختیار کیا کہ دنیا بھر میں بلدیاتی انتخابات براہ راست ہوتے ہیں اور اگر یونین کونسل کی سطح پر بھی براہ راست انتخابات ممکن نہ ہوں تو یہ جمہوریت کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ووٹ سے متعدد نمائندوں کا انتخاب جمہوری عمل کو کمزور کرتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور عدلیہ صرف اسی صورت مداخلت کر سکتی ہے جب کوئی قانون آئین سے متصادم ہو۔ عدالت نے مزید کہا کہ نئے بلدیاتی ایکٹ میں کئی سوالات کے جوابات ابھی باقی ہیں اور تمام فریقین کو مکمل موقع فراہم کیا جائے گا۔

جسٹس سلطان تنویر احمد نے الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کروائے جا رہے، اور واضح کیا کہ عدالت کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے، الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور بعد میں یہ تاثر نہیں دیا جانا چاہیے کہ عدالت کی وجہ سے انتخابات نہیں ہوئے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو تقابلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں