کراچی ( رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی اور ان کے اہلخانہ کے بینک اکاؤنٹس بلاک کیے جانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت مزید 20 ستمبر تک ملتوی کردی۔
سماعت کے دوران کیس کا تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ سرکاری وکیل نے تفتیشی افسر کو حاضری سے استثنیٰ دینے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی افسر کیس کی پیروی کے لیے اسلام آباد سے آتا ہے، اس لیے اسے آج کی حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔وفاق کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عارف علوی ملک سے باہر ہیں، ان کی واپسی کے بعد کیس کو مزید آگے بڑھایا جائے۔
اس پر درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عارف علوی کے ملک میں ہونے یا نہ ہونے سے کیس کی کارروائی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ڈاکٹر عارف علوی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدر سمیت ان کے اہلخانہ اپنے بیانات پہلے ہی ریکارڈ کراچکے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف جاری انکوائری بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا اسے ختم کیا جائے۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عارف علوی پر توہین مذہب کے الزام کے بعد ان کے پورے خاندان کے بینک اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 20 ستمبر تک ملتوی کردی۔








