لاہور( رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کو اغوا ء کرنے اور بعد ازاں اس کی ہلاکت کے مقدمے میں ملوث ملزم کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت خارج کردی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود باجوہ نے ملزم نعیم اشرف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
عدالت نے فریقین کے وکلا ء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔دوران سماعت ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار گزشتہ پانچ ماہ سے جیل میں قید ہے جبکہ مقدمہ مزید تفتیش طلب ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔سرکاری وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے خاتون کو مبینہ طور پر ورغلا کر اغوا ء کیا، دوران تفتیش ملزم کا ڈی این اے بھی مثبت آیا ہے۔
سرکاری وکیل کے مطابق ملزم خاتون کو موٹر سائیکل پر لے جا رہا تھا کہ راستے میں حادثہ پیش آگیا،حادثے کے بعد ملزم زخمی خاتون کو موقع پر چھوڑ کر فرار ہوگیا۔سرکاری وکیل نے مزید بتایا کہ بعد ازاں زخمی خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔ شناخت نہ ہونے کے باعث خاتون کو لاوارث قرار دے کر دفن کردیا گیا۔سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کے خلاف مقدمے میں سنگین نوعیت کے شواہد موجود ہیں اس لیے وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں اس لئے ضمانت کی درخواست مسترد کی جائے۔عدالت نے فریقین کے دلائل اور مقدمے کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزم نعیم اشرف کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت خارج کردی۔








