سندھ ہائی کورٹ 12

سندھ ہائی کورٹ کی غیر ملکیوں کی روانگی میں غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے اپنے وطن لوٹنے والے غیر ملکیوں کی روانگی میں غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت کر دی۔

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان میں مقیم بنگلہ دیشی شہریوں کی وطن واپسی کے معاملے پر اہم حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ بنگلہ دیش واپس جانے کے خواہش مند افراد کی روانگی میں غیر ضروری رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں اور قانونی کارروائی جلد از جلد مکمل کی جائے۔

جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار بنگلہ دیشی ہائی کمیشن سے ٹریول پرمٹ حاصل کر چکے ہیں اور مستقل طور پر اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں، تاہم ایف آئی اے امیگریشن حکام انہیں روانگی کی اجازت نہیں دے رہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کے سفری دستاویزات کی وزارتِ خارجہ سے تصدیق، نادرا ریکارڈ کی جانچ، شناختی کارڈ بلاک کرنے اور فارنرز ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بیرونِ ملک سفر کا حق قانونی تقاضوں کے تابع ہے اور امیگریشن کلیئرنس، شناخت کی تصدیق اور ڈی پورٹیشن کے قانونی طریقۂ کار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تاہم عدالت نے واضح کیا کہ جب کسی شخص کے پاس درست سفری اجازت نامہ موجود ہو تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کارروائی بلاجواز تاخیر کے بغیر مکمل کریں۔

سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ درخواست گزاروں کی بنگلہ دیش واپسی یا ڈی پورٹیشن کا عمل قانون کے مطابق جلد مکمل کیا جائے، ان کی روانگی میں غیر ضروری رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں، جبکہ درخواست گزار اپنی شناخت کی تصدیق کے لیے مطلوبہ دستاویزات متعلقہ حکام کے سامنے پیش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں