لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے کرایہ داری کے مقدمات سے متعلق ایک اہم اور نظیر بننے والا فیصلہ جاری کرتے ہوئے کرایہ دار کی بے دخلی کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے ، عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی کرایہ دار کو موثر دفاع کا موقع دیئے بغیر بے دخلی کا حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا اور ایسا فیصلہ انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے شہری محمد وسیم طاہر کی درخواست پر 14صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ لیو ٹو کنٹسٹ کی درخواست تاخیر کا شکار نہیں تھی کیونکہ اس کی مدت کا آغاز نوٹس کی وصولی سے نہیں بلکہ عدالت میں مقررہ پہلی پیشی کی تاریخ سے ہوگا۔ اس لیے رینٹ ٹربیونل کی جانب سے درخواست کو تاخیر کی بنیاد پر مسترد کرنا قانون کے مطابق نہیں تھا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رینٹ ٹربیونل نے درخواست گزار کی غیر حاضری ختم کرنے کی درخواست اور لیو ٹو کنٹسٹ کی درخواست کو مناسب قانونی بنیادوں پر پرکھنے کے بجائے جلد بازی میں مسترد کیا،
جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہیلاہور ہائیکورٹ نے رینٹ ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے غیر حاضری ختم کرنے کی درخواست دوبارہ میرٹ پر سننے کا حکم دیا۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ زیر التواء درخواستوں کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر کیا جائے جبکہ بے دخلی کے اصل مقدمے کو چار ماہ کے اندر قانون کے مطابق نمٹایا جائے۔عدالت نے واضح کیا کہ کرایہ داری کے مقدمات میں انصاف کی فراہمی کے لیے فریقین کو مکمل سماعت کا موقع دینا ناگزیر ہے اور محض تکنیکی بنیادوں پر کسی شہری کو اس کے قانونی حقِ دفاع سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔









