سپریم کورٹ آف پاکستان 9

ٹریبونل درخواست سے ہٹ کر ازخود احکامات جاری نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کوئی بھی عدالت یا ٹریبونل اپنے قانونی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ازخود (سوموٹو) کارروائی یا درخواست میں شامل نہ ہونے والے معاملات پر فیصلے جاری نہیں کر سکتا، جبکہ کسی بھی شخص کے خلاف حکم جاری کرنے سے قبل اسے سنے جانے کا حق دینا انصاف کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) اپیلیٹ ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹریبونل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور قانون کے مطابق اس کے پاس ازخود اختیارات موجود نہیں تھے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹریبونل نے دو ڈاکٹروں کی اپیلیں مسترد کرنے کے باوجود 2015 سے ہونے والی ترقیوں کی جانچ پڑتال، متعدد ملازمین کو تنزلی دینے اور ترمیم شدہ پروموشن پالیسی کو کالعدم قرار دینے جیسے احکامات جاری کیے، حالانکہ یہ معاملات اپیلوں کا حصہ نہیں تھے اور متاثرہ ملازمین کو سنے بغیر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا، جو منصفانہ ٹرائل اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175(2) کے تحت کوئی بھی عدالت یا ٹریبونل صرف وہی اختیارات استعمال کر سکتا ہے جو اسے آئین یا قانون کے تحت حاصل ہوں، جبکہ پالیسی سازی اور انتظامی معاملات متعلقہ اداروں کا اختیار ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپیلیٹ ٹریبونل کا 22 مئی 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈاکٹر یاسر رحمان خٹک اور ڈاکٹر نسرین کشور ترقی کے لیے نئے سرے سے درخواست دیں، جن پر متعلقہ ادارہ قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں