بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین میں جاپان کی جانب سے ترک کردہ کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے بارے میں یادداشت پر دستخط کو 27سال ہو چکے ہیں ۔اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین میں جاپان کی جانب سے ترک کیے گئے کیمیائی ہتھیار، چین کے خلاف جارحیت کی جنگ کے دوران جاپانی عسکریت پسندی کے سنگین جرائم میں سے ایک ہیں، اور آج بھی یہ چینی عوام کی زندگی و املاک کے تحفظ اور ماحولیاتی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاپان کو کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے معاہدے اور چین۔جاپان کے درمیان طے پانے والی یادداشت کے مطابق 2007 تک ان ترک کیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی مکمل کر دینی چاہیے تھی، تاہم تلفی کا منصوبہ اب تک چار مرتبہ مقررہ مدت سے تجاوز کر چکا ہے۔جاپان کی جانب سے ترک کیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل شدید تاخیر کا شکار ہے اور ان سے پیدا ہونے والے حفاظتی خطرات اب بھی موجود ہیں۔
چین جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ چین میں ترک کیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے عمل کو تیز کرے اور چینی عوام کو ایک محفوظ اور پاک سرزمین فراہم کرے۔







