بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) حالیہ دنوں ، امریکہ نے قومی سلامتی کے نام پر بعض پابندیوں کے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں چینی مصنوعی ذہانت کمپنیوں کے خلاف ممکنہ پابندیاں اور متعلقہ ٹیکنالوجی و مصنوعات کی درآمدی پابندیوں کو مزید سخت کرنا شامل ہے۔ اس حوالے سے چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے کیے گئے ایک سروے کے مطابق، 83.5 فیصد جواب دہندگان کو خدشہ ہے کہ امریکہ ماضی کے ٹیکنالوجی میں کھلے پن کے حامی ملک سے ایک نئے ٹیکنالوجی تحفظ پسند ملک میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور عملی استعمال کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سروے میں 89.6 فیصد شرکا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اسی وقت تیزی سے ترقی کر سکتے ہیں جب انہیں زیادہ سے زیادہ افراد استعمال کریں، ان میں بہتری لائیں اور اپنی آراء و تجربات فراہم کریں۔ ان کے مطابق کھلے استعمال کے ماحول میں ہی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح 90.1 فیصد جواب دہندگان نے رائے ظاہر کی کہ نام نہاد “چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا خطرہ” کا بیانیہ حقیقی معنوں میں سلامتی کے خدشات پر مبنی نہیں، بلکہ اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے عالمی ماحولیاتی نظام پر امریکی بالادستی برقرار رکھنا ہے۔
سروے کے مطابق 82.1 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی یا دانشورانہ املاک کے نام پر دوسرے ممالک کی مصنوعی ذہانت کمپنیوں کی ترقی کو محدود کرنا اور کھلے ماڈلز پر پابندیاں عائد کرنا بالآخر پورے مصنوعی ذہانت کے نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور عالمی سائنسی و تکنیکی جدت کو متاثر کر سکتا ہے۔
مزید برآں، 86.2 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ کھلا تعاون، ٹیکنالوجی کی کامیابیوں کو مشترکہ طور پر بانٹنا اور عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینا ہی مصنوعی ذہانت کی جدت اور ترقی کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کا مؤثر راستہ ہے۔







