اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے مواصلات اور استحکامِ پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے ملک میں انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو مزید تین تین نئے صوبائی و انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی بڑی تجویز پیش کر دی ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے اہم بیان میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے انتظامی اصلاحات پر کی گئی باتیں انتہائی غور طلب اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی بڑھتی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر اب چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو ‘نارتھ’، ‘سینٹرل’ اور ‘ساتھ’ کے نام سے تین تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔صدر آئی پی پی کا کہنا تھا کہ اس جغرافیائی و انتظامی فریم ورک کی بدولت کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی علاقوں کی تاریخی یا ثقافتی شناخت متاثر ہوگی بلکہ تمام خطوں کی ثقاقتی پہچان مکمل طور پر برقرار رہے گی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ نظام کے تحت عام شہریوں کو اپنے بنیادی مسائل اور چھوٹے کاموں کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر کا طویل و دشوار سفر طے کر کے صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اگر مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں اور نئے صوبے بن جائیں تو اس سے عوام کا فائدہ ہوگا، تاہم اگر اس سے کسی کی بادشاہت پر حرف آتا ہے تو وہ الگ بات ہے، پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کی تشکیل کی باتیں محض سیاسی نعروں اور بیانات تک محدود رہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پیج پر آئے اور اس وژن کو عملی شکل دے۔ عبدالعلیم خان نے زور دیا کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے ملک میں چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور ہائی کورٹس عوام کو زیادہ مثر اور فوری خدمات فراہم کر سکیں گے جس سے نہ صرف معیشت مستحکم اور ترقی متوازن ہوگی بلکہ قومی یکجہتی بھی مزید مضبوط اور پائیدار ہوگی۔









