لاہور(رپورٹنگ آن لائن)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری تحریک کے سلسلے میں آج بروز جمعہ کو لاہور میں جلسہ عام کا اعلان کیا ہے ، امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن جلسہ میں لیوی کیخلاف سپر مارچ بارے اہم اعلان کریں گے۔منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا لیوی کے خاتمہ کی ملک گیر احتجاجی تحریک جاری ہے ، اسلام آباد لانگ مارچ چند روز کے لیے حکمت عملی کے تحت موخر کیا، وزیراعظم وطن واپسی پر بلا تاخیر پٹرولیم لیوی پر بات چیت کا آغاز کریں ، ٹال مٹول سے کام لیا گیا تو مارچ کا آغاز کردیں گے۔
حکومت نے جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کارکنوں کے ٹکراؤ کا جال بچھایا تھا ، اسے ناکام کردیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، امیر لاہور ضیا الدین انصاری، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد سومنات ہے نہ کسی کی جاگیر۔ جہاں پالیسی ساز ادارے ، سپریم کورٹ ، پارلیمنٹ موجود ہے وہاں ہر سیاسی پارٹی کو احتجاج کا حق حاصل ہے، احتجاج کو پرامن رکھنا سیاسی پارٹی کی ذمہ داری ہے ۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کی حمایت اور کارکنوں اور بالخصوص خواتین کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کی سی کیفیت ہے جو وفاق کو کسی صورت زیب نہیں دیتی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں ، علامہ راجہ ناصر عباس ، محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر نے حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پی ٹی آئی کی پش کش کا مثبت جواب دے اور بات چیت کے لیے کمیٹی تشکیل دے۔
ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج جمہوریت اور سیاست کا حسن اور طاقت ہے۔ نائب امیر کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ردوبدل کے پاکستان میں اثرات ایک قدرتی امر ہے تاہم ایک لٹر پر ایک سو سات روپے لیوی کسی صورت قبول نہیں۔ اسی طرح وزیراعظم کے پٹرول پر ریلیف کا بھی عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے، ہم نے اس نام نہاد ریلیف کو مسترد کرتے ہوئے حکومت پر واضح کردیا تھا کہ اتنی بڑی رقم کرپٹ سسٹم کی نذر ہورہی ہے ، حکومت نے ہماری دلیل کو تسلیم کیا اور حکومتی کمیٹی نے ہمیں بتایا کہ فیصلہ جلدبازی میں ہوا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ آئی پی پیز کے خلاف دھرنوں اور مظاہروں کی طرح جماعت اسلامی نے پانچ سو دس مقامات کو بند کرکے پٹرولیم لیوی کے خلاف منظم جدوجہد کا آغاز کیا۔
ایک ماہ قبل دھرنوں کا آغاز ہوا، اسی دوران وزیراعظم کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی سے مذاکرات کا آغاز ہوگیا، مذاکرات میں حکومت کو لیوی ختم کرنے اور اس کے برعکس محصولات میں اضافہ کے لیے چھ تجاویز دیں جو سود کی شرح کو نو فیصد لانے، آئی پی پیز معاہدوں سے ہونے والی بچت کو عوامی فلاح پر خرچ کرنے ، آئل ریفائینریز کے منافع میں کمی لانے، اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو منتقل ہونے والے محمکوں کا وفاقی بجٹ ختم کرنے ، کیشن ریزرو ریکوائرمنٹ کی شرح پانچ فیصد سے پندرہ فیصد کرنے اور حکومتی اخراجات اور شاہ خرچیوں میں کمی پر مشتمل تھیں۔
حکومت کے پاس ہماری کسی کو بھی تجویز کو رد کرنے کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ تاہم اس کے بعد حکومتی کمیٹی کی جانب سے کہا گیا کہ وزیراعظم کی طرف سے لانگ مارچ روکنے کی درخواست ہے ، اسی دوران کراچی سے ٹرین مارچ کا آغاز ہوگیا ، پھر وزیراعظم نے بذات خود امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن سے رابطہ کرکے لانگ مارچ روکنے کی درخواست کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے ان پر واضح کردیا کہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ جماعت اسلامی کا دوٹوک مطالبہ ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ پرامن اور منظم احتجاج کیا ہے ، مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو لانگ مارچ کا آغاز کردیں گے۔









