کراچی(رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی معاشی پالیسیوں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، ٹیکسوں کے بوجھ اور موجودہ سیاسی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 3اگست کو خواتین مارچ جبکہ 7اگست کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا،عوام، بالخصوص نوجوانوں سڑکوں پر نکل کر اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کریں۔کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران ہر معاملے پر آئی ایم ایف پروگرام کا بہانہ بناتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے نام پر پوری قوم پر ناقابل برداشت معاشی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ حکمران طبقے کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً تین کروڑ موٹرسائیکلیں موجود ہیں اور اگر ان میں سے آدھی بھی سڑکوں پر چل رہی ہوں تو ان کے ذریعے عوام پہلے ہی بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ڈیزل عام پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی تمام چیزوں پر پڑتا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پیٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کر رہی ہے، لیکن جب کمی کی جاتی ہے تو صرف چند پیسے کم کیے جاتے ہیں، جبکہ اضافہ بڑی مقدار میں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پورے خطے میں پاکستان میں سب سے مہنگا پیٹرول فروخت کیا جا رہا ہے اور ایکس ریفائنری قیمتوں کے مقابلے میں بھی عوام سے زیادہ وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پیٹرولیم لیوی ایک ظالمانہ اور ناجائز ٹیکس ہے جسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت جنگی حالات کا حوالہ دیتی ہے، لیکن دنیا میں ایسے مواقع پر معاشی ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے، جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو متحد ہو کر فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا، اسی مقصد کے لیے 3 اگست کو خواتین مارچ اور 7اگست کو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا، جبکہ احتجاج کی تیاری کے لیے ریہرسل بھی کی جائے گی۔
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکلیں اور پرامن احتجاج کے ذریعے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل موجودہ نظام کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کیے گئے نظام اور اسے نافذ کرنے والے دونوں ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر معاملات درست کرنے ہیں تو اصل فیصلے کرنے والوں کو سابق حکمرانوں سے بات کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 2015کے بعد سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے، جبکہ کراچی میں جماعت اسلامی کا میئر بننے نہیں دیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ آئین میں بلدیاتی نظام واضح طور پر موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید الزام عائد کیا کہ جن جماعتوں کو عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں تھا انہیں اقتدار دیا گیا، جبکہ صدر مملکت اور دیگر اہم عہدوں سے متعلق بھی انہوں نے انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھائے۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ فوجی افسران سمیت تمام ریاستی اداروں کے غیر ضروری مراعات یافتہ نظام کا خاتمہ ہونا چاہیے اور اگر حکومت کو اب احساس ہو گیا ہے تو اسے صرف بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، کیونکہ محض باتوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔









