واشنگٹن ( رپورٹنگ آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ویٹیکن کے پوپ لیو چہارم کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جس کے بعد پوپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے صدر کے ساتھ کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔
انگولا جانے والے طیارے میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے افریقی دورے کے دوران دیے گئے بیانات کو پیر کے روز امریکی صدر کی جانب سے کی گئی سخت تنقید کا ردعمل سمجھا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملے کو اس طرح سمجھا گیا جیسے میں صدر کے ساتھ دوبارہ بحث شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، جبکہ ایسا کرنا میرے مفاد میں بالکل نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دو دن قبل امن کی دعا کے دوران کی گئی تقریر دو ہفتے قبل لکھی گئی تھی، یعنی ٹرمپ کی تنقید سے بہت پہلے کی تھی۔ ان کا اشارہ اپنے اس جملے کی طرف تھا کہ دنیا کو مٹھی بھر جابروں نے تباہ کر دیا ہے۔
دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کے روز اپنے ایکس اکانٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے پوپ کے کلام پر ردعمل دیتے ہوئے اس وضاحت پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ میں پوپ لیو کا یہ کہنے پر شکر گزار ہوں۔ اگرچہ میڈیا کا بیانیہ مسلسل ماحول کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور حقیقت میں اختلافات ہوتے بھی رہیں گے، مگر حقیقت اکثر اوقات بہت زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔









