ہائیکورٹ 14

ٹرائل کے دوران اٹھائے گئے اعتراضات،قتل کیس کا اکٹھا فیصلہ کرنے کا آرڈر کالعدم قرار

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کے دوران اٹھائے گئے اعتراضات اور قتل کیس کا حتمی فیصلہ ایک ساتھ سنانے سے متعلق ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ پہلے اٹھائے گئے اعتراضات پر فیصلہ کرے، اس کے بعد ہی کیس کی مزید کارروائی آگے بڑھائی جائے۔ یہ حکم جسٹس جسٹس جواد ظفر نے مدعی مقدمہ اقبال حسین شاہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے راجہ عبد الرحمان ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ مدعی کا نواسا نعمان اعجاز قتل ہوا، جس پر پولیس نے ملزمان کامران اور برکت علی کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں مدعی پر جرح کے دوران مختلف اعتراضات اٹھائے گئے تھے اور استدعا کی گئی تھی کہ ان اعتراضات پر پہلے فیصلہ سنایا جائے۔وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ نے اعتراضات پر فیصلہ مخر کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اعتراضات اور کیس کا حتمی فیصلہ ایک ساتھ سنایا جائے گا، جو کہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔

درخواست گزار وکیل راجہ عبد الرحمان نے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کا یہ حکم کالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت نے فریقین کی باہمی رضامندی سے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج کو ہدایت کی کہ وہ پہلے اعتراضات پر فیصلہ کریں اور بعد ازاں کیس کو قانون کے مطابق آگے بڑھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں