ہائیکورٹ 47

لڑکی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس ،لاہور ہائیکورٹ کا پولیس رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار

لاہور ( رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے چار سال قبل اغواء ہونے والی لڑکی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اغواء ہونے والی لڑکیوں کی بڑی تعداد تاحال بازیاب نہیں ہو سکی،پولیس کی بنیادی ذمہ داری مغوی بچیوں کو بازیاب کرانا ہے تاہم ادارہ اس اہم فریضے کی ادائیگی میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے سائلہ سلمیٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کی ، جس نے 2022ء میں اپنی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے دوہزار بائیس میں ہائیکورٹ سے رجوع کیا ۔

آئی جی پنجاب عبد الکریم ،ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان سمیت دیگر اعلیٰ پولیس افسران کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے آئی جی پنجاب کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔ آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر پانچ سالوں کے دوران اغواء اور بازیاب ہونے والی خواتین کے متعلق رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق 2021ء سے 2025ء تک خواتین کے اغواء سے متعلق ایک لاکھ 5ہزار 244مقدمات درج ہوئے۔ ان کے مطابق پانچ سال کے دوران ایک لاکھ 5ہزار 571خواتین اغوا ہوئیں جبکہ دفعہ 365بی کے تحت 70ہزار 773 اور دفعہ 496اے کے تحت 34 ہزار 471مقدمات درج کیے گئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مغوی لڑکیوں کے بیانات کی روشنی میں 80ہزار 776مقدمات خارج کیے گئے جبکہ 20ہزار 613مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے۔ اس وقت 3ہزار 864مقدمات زیر تفتیش ہیں۔

آئی جی کے مطابق 612خواتین کو بازیاب کرا لیا گیا ہے تاہم 3ہزار 258خواتین تاحال لاپتہ ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں کیوں بازیاب نہیں ہو سکیں۔ اس پر آئی جی پنجاب عبد الکریم نے موقف اختیار کیا کہ انتظامی مسائل کے باعث مشکلات درپیش ہیں۔ چیف جسٹس نے اس جواب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی مسائل کو حل کرنا پولیس کی اپنی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں۔سماعت کے دوران ایک دلچسپ لمحہ بھی پیش آیا جب آئی جی پنجاب نے چیف جسٹس کو غلطی سے میڈم سی ایم کہہ دیا تاہم فوراً اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے معذرت کر لی اور مائی لیڈی شپ کہا ،آئی جی پنجاب نے عدالت کو مزید بتایا کہ اغواء کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ایک باقاعدہ میکنزم تشکیل دیا گیا ہے اور ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم قائم کی گئی ہے جبکہ صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر یونٹس بھی فعال کیے گئے ہیں۔

عدالت نے پولیس کی ناقص کارکردگی پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے حکم دیا کہ مغوی بچیوں کو بازیاب نہ کرانے والے تفتیشی افسران کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے اور ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ناقص کارکردگی کے حامل افسران کو آئندہ انویسٹی گیشن پر تعینات نہ کیا جائے۔ عدالت نے اغواء کے کیسز کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی سپیشل ٹیم کو آئندہ سماعت پر مکمل رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم جون تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔درخواست گزار سلمی بی بی نے اپنی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے 2022ء میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس کیس میں آئی جی پنجاب عبد الکریم اس سے قبل بھی دو مرتبہ عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں