لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے زیادتی کے ایک مقدمے میں ملزم ملک اعجاز کی عبوری ضمانت منظور کرلی تاہم عدالتی فیصلے کے بعد کمرہ عدالت کے باہر کشیدگی پیدا ہو گئی اور صورتحال ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کی فوری گرفتاری درکار نہیں، جس پر عدالت نے قانونی تقاضے مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔
عدالتی فیصلے کے فوری بعد مدعی فریق نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور کمرہ عدالت کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔ مدعیوں نے تفتیشی افسر پر ملزم سے رشوت لینے کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ کیس کو جان بوجھ کر کمزور کیا جا رہا ہے۔ مشتعل مدعیوں نے تفتیشی افسر کا گریبان پکڑ لیا جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی ہاتھا پائی میں بدل گئی۔صورتحال کشیدہ ہونے پر لاہور ہائیکورٹ کی سکیورٹی فوری طور پر موقع پر پہنچی اور بیچ بچائو کرا کے معاملہ کنٹرول کیا۔
سکیورٹی اہلکاروں نے مدعیوں کو احاطہ عدالت سے باہر منتقل کر دیا تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔مدعی خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور وہ انصاف کی طالب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی او گوجرانوالہ نے بھی ملزم کو قصوروار قرار دیا تھا، اس کے باوجود ملزم کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب تفتیشی افسر نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر ملزم کی فوری گرفتاری ضروری نہیں۔واضح رہے کہ ملزم ملک اعجاز کے خلاف گوجرانوالہ کے ایک تھانے میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، جس کی تفتیش جاری ہے۔







