عدالت 45

سندھ ہائی کورٹ، سکھر میں 124 ایکڑ اراضی الاٹمنٹ کیس میں نیب تحقیقات بحال، توہین عدالت کی درخواست مسترد

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے سکھر میں 124 ایکڑ اراضی الاٹمنٹ کیس میں نیب تحقیقات بحال رکھتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

منگل کوسندھ ہائی کورٹ میں سکھر میں 124 ایکڑ سرکاری اراضی کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے پر نیب تحقیقات کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزاروں نے ڈی جی نیب اور ڈائریکٹر نیب سکھر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی تھی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت پہلے ہی نیب کو تحقیقات سے روک چکی ہے، اس کے باوجود نیب حکام نے درخواست گزاروں کو طلبی کے نوٹس جاری کیے ہیں، جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا متعلقہ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سکھر نے عدالت کو بتایا کہ سکھر میں 124 ایکڑ سرکاری اراضی غیر قانونی طور پر رائو شاکر کو الاٹ کی گئی، جس میں تپے دار ممتاز کے کردار کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے موقف دیا کہ نیب قانون کے مطابق چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد تحقیقات شروع کی گئی ہیں، لہٰذا کارروائی قانونی تقاضوں کے مطابق ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ڈی جی نیب اور ڈائریکٹر نیب سکھر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد کردی۔ سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو مذکورہ اراضی الاٹمنٹ کیس میں تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت بھی دے دی۔عدالتی فیصلے کے بعد سکھر میں 124 ایکڑ اراضی الاٹمنٹ کیس کی تحقیقات مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں