شہباز شریف 139

وزیراعظم کی ریکو ڈیک منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پراجیکٹ سپورٹ ٹیم کے قیام کی ہدایت

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے ریکو ڈیک منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پراجیکٹ سپورٹ ٹیم کے قیام کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داری پوری کریں، ریکو ڈیک منصوبے کے حوالے سے حالیہ معاہدہ دونوں فریقین کیلئے فائدہ مند ہو گا،ریکو ڈیک منصوبہ بلوچستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہو گا اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ پیر کو یہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بیرک ریکو ڈیک مائننگ کمپنی کے ایک وفد نے چیف ایگزیکٹو افسر مارک برسٹوو(Mark Bristow)کی سربراہی میں اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں مارک برسٹوو نے وزیراعظم کو منصوبے کی اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے مارک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے کے حوالے سے حالیہ معاہدہ دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ہو گا. انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبہ بلوچستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہو گا اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔وزیراعظم نے ریکو ڈیک منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پراجیکٹ سپورٹ ٹیم کے قیام کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داری پوری کریں ۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ منصوبے پر کام کرنے والے ستر فیصد افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے. وزیراعظم کو بتایا گیا ریکو ڈیک میں کمپنی نے علاقے کی کمیونٹی ڈویلپمنٹ کمیٹی کے تعاون سے اسکول قائم کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ علاقے کے نوجوانوں کو پیشہ وارانہ اور اعلیٰ تعلیم دینے کے لئیاقدامات کئے جائیں گے تا کہ ان کے لئے روزگار کی راہیں کھلیں. بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ علاقے میں پینے کے صاف پانی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کام جاری ہے. بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ منصوبے میں متبادل توانائی کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔

وزیراعظم نے بیرک ریکو ڈیک مائننگ کمپنی کے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی کے حوالے سے جاری کاموں کی تعریف کی اور کمپنی کو بلوچستان میں دانش سکولز کے قیام میں حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ترغیب بھی دی۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان میں کان کنی,انفارمیشن ٹیکنالوجی,توانائی, مواصلات اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت ملک میں سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات دینے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کے کئی علاقے خصوصاً بلوچستان معدینات سے مالا مال ہیں ، ان قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کے لئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ریکو ڈیک منصوبے کے حوالے سے حالیہ معاہدہ دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ہو گا ،ریکو ڈیک منصوبہ بلوچستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہو گا اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔وزیراعظم نے ریکو ڈیک منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پراجیکٹ سپورٹ ٹیم کے قیام کی ہدایت کی ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داری پوری کریں ۔

وزیر اعظم کو بتایاگیاکہ منصوبے پر کام کرنے والے ستر فیصد افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے ۔ وزیر اعظم کو بتایاگیا کہ ریکو ڈیک میں کمپنی نے علاقے کی کمیونٹی ڈویلپمنٹ کمیٹی کے تعاون سے اسکول قائم کر دیا ہے ; پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کام جاری ہے ۔ وزیر اعظم کو بتایاگیاکہ منصوبے میں متبادل توانائی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے بیرک ریکو ڈیک مائننگ کمپنی کے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی کے حوالے سے جاری کاموں کی تعریف کی۔وزیراعظم نے کمپنی کو بلوچستان میں دانش سکولز کے قیام میں حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ترغیب کی ۔ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات اسحاق ڈار ,مشیر وزیراعظم احد چیمہ, وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک, وزیراعظم کے معاون خصوصی جہان زیب خان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران موجود تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں