حافظ نعیم الرحمن 56

قیام پاکستان سے لے کر آج تک حکومتوں نے شہریوں کو حقوق نہیں دئیے’ حافظ نعیم الرحمن

سرگودھا(رپورٹنگ آن لائن ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ شہریوں کو تعلیم، صحت، امن اور انصاف فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری، حکومتوں نے گزشتہ اٹھہتر برس سے یہ فرض ادا نہیں کیا۔ ملک میں اسی لاکھ نوجوان نشہ کی لت میں مبتلا ہیں، بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے پنجاب حکومت سکول ہی فروخت کررہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرگودھا میں بنوقابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے زیراہتمام تقریب میں گریجوایشن کرنے والے ایک ہزار سے زائد طلبا و طالبات نے شرکت کی۔ امیر ضلع اویس قاسم سمیت جماعت اور الخدمت کے ذمہ داران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی نے طلباو طالبات، الخدمت ٹیم اور جماعت اسلامی کے ذمہ داران کو مبارکباد دی اور بنو قابل کو گیم چینجر قراردیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بنوقابل پروگرام میں اب تک 14 لاکھ سے زائد بچے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور ان میں سے چالیس فیصد بچیاں ہیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت اور پالیسی درست ہو تو نوجوانوں کو باصلاحیت بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب جماعت اسلامی اور الخدمت نوجوانوں کو تعلیم فراہم کر سکتے ہیں تو ریاست یہ ذمہ داری کیوں پوری نہیں کر رہی؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی شعبوں میں بھی تعلیم مسلسل مہنگی ہوتی جا رہی ہے، تعلیم کا نظام طبقاتی اور استحصالی ہے۔ سرگودھا ضلع میں صرف 20 فیصد افراد نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے، ضلع میں پانچ سے پندرہ برس کے ایک لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، سکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز کو فروخت کیا جارہا ہے، آئی ٹی تعلیم کے فروغ کے لیے کوئی جامع حکمت عملی موجود نہیں، اگر نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دی جائے تو یہ ملک کا سارا قرضہ اتار سکتے ہیں، تاہم پنجاب کی وزیراعلی? کا سارا زور ذاتی تشہیر پر ہے، گورننس کے دعوے کیے جارہے ہیں جب کہ صوبہ میں کسان، مزدور، نوکری پیشہ افراد سب پریشان ہیں، عملی طور پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتوں نے پاکستان میں آج تک امیر اور غریب کو یکساں تعلیم، انصاف اور امن فراہم نہیں کیا جا سکا۔ ہر غریب شہری پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں بوجھ اٹھا رہا ہے، جبکہ بجلی کے بل گھروں کے کرایوں سے بھی زیادہ آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پالیسی درست ہو تو ملکی قرضہ ختم کیا جا سکتا ہے، مگر موجودہ حکومت بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے نمائشی اقدامات میں مصروف ہے۔امیر جماعت اسلامی نے زور دیا کہ ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے نظام بدلنا ہوگا، کیونکہ موجودہ نظام کے تحت مسائل کا حل ممکن نہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جدوجہد میں شامل ہوں، جماعت اسلامی ان کو تعلیم دے کر باصلاحیت بنائے گی اور ملک کو درست سمت میں لے جانے کے لیے تیار کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں