لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے مغویہ بچیوں کی عدم بازیابی پر پولیس کارکردگی پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو آج (بروز منگل کو) ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ، عدالت نے درخواست واپس لینے کی استدعا بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ درخواست واپس نہیں ہوگی۔چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سائلہ سعدیہ حسن کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت سی پی اوفیصل آبادتنویرحسین ذاتی حیثیت میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر کے ہمراہ پیش ہوئے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے پولیس کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی توچیف جسٹس نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جس کیس میں کسی سینئرافسر کوطلب کریں،اس میں درخواست واپس لینے کی استدعا آجاتی ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ درخواست واپس نہیں ہوگی۔ عدالت نے قراردیا کہ یہ معاملہ عدالت اورتوہین عدالت کرنے والے افسر کے درمیان ہے، اس لیے محض درخواست واپس لینے سے معاملہ ختم نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے سی پی او فیصل آباد سے استفسار کیا کہ آپ نے اس کیس میں کیا کیا؟۔
سی پی اوتنویرحسین نے بازیابی اوردفعہ 164کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا۔ عدالت نے دفعہ 164کے بیان میں تاخیر پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ متعلقہ تفتیشی بھی بیان ریکارڈ کرانے میں تاخیر کا سبب بنتا رہا۔ عدالت نے واضح کیا کہ افسران شوکاز نوٹس جاری کرکے اپنی ذمہ داری سے مبرا نہیں ہوسکتے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جن کی بچیاں مبینہ طور پر لاپتہ یاغائب ہوتی ہیں، ان کے والدین پر کیا گزرتی ہے، وہی جانتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی نے تو کہا تھا کہ لاپتہ بچیوں کی بازیابی کے حوالے سے بہت سے اقدامات کردیئے ہیں۔









