عظمی بخاری 6

عظمیٰ بخاری نے معین قریشی کے خلاف ہتک عزت کا کیس جیت لیا

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی کے خلاف ہتک عزت کا کیس جیت لیا۔

لاہور کے ڈیفمیشن ٹریبیونل نے عظمیٰ بخاری کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اپوزیشن لیڈر پنجاب معین ریاض قریشی کو 30لاکھ روپے ہرجانہ عظمیٰ بخاری کو ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

عظمیٰ بخاری کے وکیل علی بخاری کے مطابق اپوزیشن لیڈر اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے، ٹرائل کے دوران معین قریشی نے خود تسلیم کیا کہ ان کے پاس الزامات کے ثبوت موجود نہیں تھے۔

عظمیٰ بخاری نے معین قریشی کے خلاف آٹھ کروڑ چالیس لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، مقدمہ ڈیفمیشن ایکٹ کے تحت لاہور کے ڈیفمیشن ٹریبیونل میں دائر کیا گیا، عظمیٰ بخاری نے یہ دعویٰ معین قریشی کی جانب سے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں دئیے گئے بیان پر کیا تھا۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے پنجاب اسمبلی کے دورے کے موقع پر عظمیٰ بخاری نے سو سے دو سو افراد کو اسمبلی کے اندر داخل کروایا۔

عظمیٰ بخاری نے ان الزامات کو ہتک عزت قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کی، ڈیفمیشن ٹربیونل نے عظمی بخاری کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے معین ریاض قریشی کو 30لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے، اپوزیشن لیڈر نے جھوٹے الزامات عائد کیے جنہیں وہ ثابت نہیں کرسکے۔

علی بخاری کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران معین قریشی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس الزامات کے ثبوت موجود نہیں اور انہوں نے یہ بیان اپنی ذاتی آبزرویشن کے طور پر دیا تھا۔

عظمیٰ بخاری کے وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ کسی پر الزام لگانے کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہیں، اپوزیشن لیڈر اپنے دعوے کو ثابت کرنے میں ناکام رہے، آج حق اور سچ کی فتح ہوئی جھوٹ بولنے والے کو اب حساب دینا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں