موبائل فون 7

موبائل فون کو جاسوسی سافٹ ویئر سے محفوظ رکھنے کے پانچ مؤثر طریقے

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)موبائل فون میں جاسوسی سافٹ ویئر کے ذریعے ذاتی معلومات، پیغامات اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ سائبر حملہ آور بعض اوقات صارف کی جانب سے کسی مشکوک رابطے پر کلک کیے بغیر بھی فون کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس کے باعث موبائل فون کی حفاظت مزید اہم ہوگئی ہے۔ٹیکنالوجی میگزین وائرڈ کے مطابق جاسوسی سافٹ ویئر فون میں داخل ہونے کے بعد پیغامات پڑھنے، کی بورڈ پر لکھی جانے والی معلومات محفوظ کرنے، اسکرین کی تصاویر لینے، اطلاعات کی نگرانی اور بینکنگ ایپلی کیشنز تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔

صحافیوں، سماجی کارکنوں، سرکاری عہدیداروں اور کاروباری شخصیات کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے، تاہم عام صارفین بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔موبائل فون کے نظام اور ایپلی کیشنز کو باقاعدگی سے جدید بنائیں اور خودکار تازہ کاری کی سہولت فعال رکھیں تاکہ حفاظتی خامیوں کو بروقت دور کیا جاسکے۔نامعلوم افراد کے بھیجے گئے مشکوک روابط نہ کھولیں اور غیر معتبر ذرائع سے ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ نہ کریں۔ اینڈرائیڈ فون میں گوگل پلے اسٹور اور آئی فون میں ایپل کے سرکاری ایپ اسٹور کو ترجیح دیں۔ ایپلی کیشنز کو دی گئی اجازتوں کا بھی باقاعدگی سے جائزہ لیں۔سائبر حملوں کے خطرات کم کرنے کے لیے فون میں دستیاب حفاظتی سہولیات استعمال کریں۔

آئی فون کا لاک ڈاؤن موڈ اور اینڈرائیڈ کی جدید حفاظتی خصوصیات بعض خطرات سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہیں۔اگر فون اچانک گرم ہونے لگے، غیر معمولی طور پر سست ہوجائے یا کیمرا اور مائیکروفون بلاوجہ فعال دکھائی دیں تو اس کی جانچ کروائیں۔ تاہم یہ علامات لازماً جاسوسی سافٹ ویئر کی موجودگی کا ثبوت نہیں۔ فون پر موصول ہونے والی حفاظتی تنبیہات کو بھی نظرانداز نہ کریں۔اگر فون میں جاسوسی سافٹ ویئر کی موجودگی کا ٹھوس شبہ ہو تو سائبر سیکیورٹی کے ماہر سے مدد لیں۔ فون دوبارہ چلانے سے نقصان دہ سافٹ ویئر کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں ملتی۔ ممکنہ شواہد اور حساس معلومات محفوظ رکھنے کے لیے فون کا تمام ڈیٹا فوری طور پر حذف کرنے سے بھی گریز کریں۔ماہرین کے مطابق کوئی ایک حفاظتی تدبیر جاسوسی سافٹ ویئر سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی، تاہم فون کو جدید رکھنے، غیر معتبر ایپلی کیشنز سے بچنے اور حفاظتی سہولیات فعال کرنے سے سائبر حملوں کے خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں