اسپڈ سیل 6

سائنسدانوں کا جاندار خلیہ تخلیق کرنے کا دعوی، مصنوعی خلیے کا نام اسپڈ سیل رکھا گیا ہے

واشنگٹن(رپورٹنگ آن لائن)سائنسدانوں نے تاریخ میں پہلی بار تجربہ گاہ میں بے جان کیمیاوی مادوں کو ملا کر ایک ایسا خلیہ یعنی سیل بنایا ہے جو قدرتی خلیوں کی طرح خوراک کھا سکتا ہے، بڑا ہو سکتا ہے اور اپنی نسل بھی بڑھا سکتا ہے۔

سائنس کی دنیا میں اس بڑی کامیابی سے اب ایسی جاندار مشینیں بنانا ممکن ہو سکے گا جو انسانوں کے کہنے پر کام کریں گی۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف منیسوٹا کی پروفیسر کیٹ ایڈامالا اور ان کی ٹیم نے کی ہے۔انہوں نے اس مصنوعی خلیے کو مختلف کیمیکلز اور مالیکیولز کو جوڑ کر مرحلہ وار تیار کیا۔ یہ خلیہ نہ تو کسی پودے کا ہے اور نہ ہی کسی جانور کا، بلکہ یہ دیکھنے میں ایک عام جرثومے یعنی بیکٹیریا جیسا ہے۔رپورٹ کے مطابق پروفیسر کیٹ ایڈامالا کا کہنا ہے کہ میں اس خلیے میں ڈالی گئی تمام چیزوں اور کیمیکلز کو اچھی طرح جانتی ہوں اور ہمیں معلوم ہے کہ کون سی چیز کتنی مقدار میں ڈالی گئی ہے، اس لیے ہم اپنی مرضی سے اس میں تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس طریقے سے مستقبل میں کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کا علاج اور نئی دوائیاں بنانا آسان ہو جائے گا۔لندن کے امپیریل کالج کے ایک ماہر یوول ایلانی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، انہوں نے اس کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیے کو بالکل شروع سے بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اب ہم قدرت کے پرانے اصولوں کے پابند نہیں رہے، اس سے ہمیں ایسی چیزیں بنانے کا موقع ملے گا جو عام قدرتی خلیے آسانی سے نہیں کر سکتے یا بالکل نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس پرانی کوشش میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس میں یہ دیکھا جا رہا تھا کہ کیا کیمیکلز کو اس طرح جوڑا جا سکتا ہے جسے ہم زندگی کا نام دے سکیں۔اس مصنوعی خلیے کا نام ایڈامالا نے اسپڈ سیل رکھا ہے۔

جو اسپوٹنک سیٹلائٹ سے متاثر ہو کر رکھا گیا ایک دلچسپ نام ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ مصنوعی خلیہ تقریبا 150 سے 200 مالیکیولز پر مشتمل ہے، جبکہ قدرتی خلیوں میں لاکھوں بلکہ اربوں اجزا ہوتے ہیں۔ یہ خلیہ ہر بار تقریبا 12 گھنٹے میں تقسیم ہوتا ہے، جبکہ عام بیکٹیریا جیسے ای کولی صرف 30 منٹ میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق اسپڈ سیل قدرتی خلیے کی طرح مکمل نظام نہیں رکھتا، مثال کے طور پر اس میں وہ اندرونی ڈھانچہ موجود نہیں جو قدرتی خلیوں کو سہارا دیتا ہے۔ یہ اپنے پروٹینز کو استعمال کر کے خود کو تقسیم کرتا ہے۔اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ابھی زندگی کی مکمل شکل نہیں، لیکن اس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ زندگی بنیادی طور پر کیسے وجود میں آئی۔

انہوں نے یہ بھی تسلی دی کہ یہ خلیہ کسی بیماری یا حیاتیاتی ہتھیار پھیلانے کا سبب نہیں بن سکتا کیونکہ یہ صرف تجربہ گاہ میں سائنس دانوں کے ہاتھ سے دی گئی خوراک پر ہی زندہ رہ سکتا ہے اور اگر اسے باہر کھلا چھوڑ دیا جائے تو یہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔کئی ماہرین نے اس تحقیق کو ایک بڑی سائنسی پیش رفت قرار دیا ہے۔ لندن کے امپیریل کالج کے پروفیسر ٹام ایلس نے کہا، یہ مصنوعی خلیوں کے شعبے میں حالیہ دور کی سب سے بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس تحقیق سے مستقبل میں ایسی مشینیں یا خلیے تیار کیے جا سکتے ہیں جو بیماریوں کے علاج، کاربن جذب کرنے یا کیمیکلز بنانے جیسے کام انجام دے سکیں۔

تاہم ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی آگے بڑھے گی، اس کے اخلاقی اور حفاظتی پہلوں پر بھی غور کرنا ضروری ہوگا تاکہ اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں