کوئٹہ(رپورٹنگ آن لائن)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے یہاں پاکستان نیول وار کالج کے 55ویں تربیتی کورس کے شرکاء نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے ملک میں قیامِ امن، استحکام اور قومی سلامتی کے فروغ کے لیے وزیر اعظم پاکستان کی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پیشہ ورانہ و قائدانہ کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سول و عسکری قیادت کے مؤثر اشتراک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پاکستان کے دفاعی و اسٹریٹجک وڑن کو مزید مضبوط، واضح اور ہمہ جہت بنایا ہے .
ملاقات میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نیول وار کورس کے شرکاء سے صوبے کی مجموعی سیاسی، سیکیورٹی اور سماجی و معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور تاریخی حوالوں سے گفتگو کی اس موقع پر انہوں نے عالمی منظرنامے میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے قومی و عسکری قیادت کی مشترکہ حکمت عملی کو ملکی استحکام کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ درپیش چیلنجز کے باوجود ملک کا دفاعی اور اسٹریٹجک وڑن مضبوط اور واضح ہے وزیر اعلیٰ نے خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور جیو اسٹریٹیجک اہمیت کے تناظر میں بلوچستان کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ پاکستان کے مستقبل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ،
انہوں کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سول و عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے اور اسی اشتراک کے تحت ہم آگے بڑھ رہے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے غیر متوازن ترقی کو تشدد کی وجہ قرار دینا درست تجزیہ نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض عناصر ریاست کو غیر مستحکم کرنے کے لیے نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کر رہے ہیں انہوں نے نشاندہی کی کہ بیرون ملک بیٹھے پاکستان مخالف عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم ریاست ان تمام سرگرمیوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت ان کا مقابلہ کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بلوچستان حکومت نے مکمل ذمہ داری کے ساتھ اون کیا ہے اور اس سلسلے میں ادارہ جاتی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے ،
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 40 ارب روپے جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مزید 10 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ امن و امان کو دیرپا بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے نوجوانوں کو ریاست کا سب سے اہم سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پالیسیوں کا محور نوجوان ہیں اور ان کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے میرٹ، شفافیت اور ہر سطح پر بامقصد ڈائیلاگ کو فروغ دیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کی ہر جامعہ اور ہر فورم پر نوجوانوں کو سنا جا رہا ہے تاکہ ان کے مسائل کو سمجھ کر مؤثر حل فراہم کیے جا سکیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک جامع یوتھ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے،
جس کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، انہیں مواقع فراہم کرنے اور ترقی کے عمل میں شریک کرنے کا عملی فریم ورک دیا گیا ہے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ نوجوان جو کسی قسم کے گلے شکوے رکھتے ہیں انہیں سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے ان کے تحفظات و شکایات کا ازالہ کیا جائے گا اور انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے گا،
تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا کر تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مؤثر حکمت عملی، میرٹوکریسی اور نوجوانوں کے ساتھ مسلسل مکالمے کے ذریعے بلوچستان کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رکھے گی انہوں نے کہا کہ ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال بلوچستان کے حصول کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔









