لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سویپر سمیت سکولوں کے درجہ چہارم کے 100سے زائد ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے کے معاملے پر توہین عدالت کیس میں سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب سمیت دیگر متعلقہ افسران کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا ۔ جسٹس خالد اسحاق نے خاتون سویپر زاہدہ بی بی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے سیکرٹری اسکول ایجوکیشن پنجاب کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ عدالت نے چیف ایگزیکٹو افسر اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کو بھی طلب کر لیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق سو سے زائد درجہ چہارم ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں، جس پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے 18جون 2025ء کو محکمہ تعلیم کو واضح احکامات جاری کیے تھے کہ تمام ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جائیں تاہم اس حکم پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔سماعت کے دوران عدالت نے عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری اسکول ایجوکیشن سمیت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ حکام کو عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے آخری موقع دیا جا رہا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر آئندہ سماعت تک حکم پر عمل نہ کیا گیا تو تمام جواب دہندگان کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوگا اور ان کے خلاف توہین عدالت کے قانون کے تحت کارروائی شروع کی جاسکتی یے۔درخواست گزار زاہدہ بی بی نے استدعا کی ہے کہ عدالتی حکم عدولی پر سیکرٹری اسکول ایجوکیشن سمیت دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے اور متاثرہ ملازمین کو فوری طور پر ان کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔ کیس کی آئندہ سماعت پانچ مئی کو ہوگی یہ معاملہ سرکاری اسکولوں کے نچلے درجے کے ملازمین کے حقوق سے متعلق اہم نوعیت اختیار کر گیا ہے، اور آئندہ سماعت میں اس کیس میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔









