ہائیکورٹ 17

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، سرکاری و نیم سرکاری اداروں پر لیبر قوانین کے اطلاق کی توثیق

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے ملازمین کے حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے سرکاری اداروں پر بھی لیبر قوانین کے اطلاق کی توثیق کر دی ، عدالت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس بی پی بینکنگ سروسز کی جانب سے دائر 10 رٹ پٹیشنز کو مسترد کر دیا۔ہائیکورٹ کے جسٹس عابد حسین چٹھہ کی جانب سے جاری کیے گئے 8صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

عدالت نے لیبر کورٹ اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی)کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے برطرف ملازمین کی بحالی اور مستقلی کا حکم دے دیا۔فیصلے کے مطابق 9ماہ سے زائد عرصہ تک کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کیے جانے کا حق حاصل ہے جبکہ زبانی احکامات کے ذریعے برطرفی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ برطرف ملازمین کو تمام مراعات کے ساتھ فوری طور پر بحال کیا جائے۔لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں سٹیٹ بینک کو کمرشل اسٹیبلشمنٹ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس پر لیبر قوانین کا اطلاق لازم ہے اور ادارے کے داخلی ضوابط لیبر قوانین پر فوقیت نہیں رکھتے۔عدالت نے سٹیٹ بینک کے ریکارڈ منافع کو اس کی تجارتی حیثیت کا ثبوت قرار دیتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا اور بینک کا موقف مسترد کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں