میاں محمد زمان وٹو 29

دریائے ستلج کے اندر واقع دیہات اور آبادیوں تک رسائی بہت مشکل ہے، میاں محمد زمان وٹو

اوکاڑہ

( شیر محمد)

سابق صوبائی سیکرٹری خوراک پنجاب و سابق کین کمشنر پنجاب میاں محمد زمان وٹو نے نمائندہ رپورٹنگ ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دریائے ستلج کے اندر واقع دیہات اور آبادیوں تک رسائی بہت مشکل ہے اور یہاں سیلاب سے گھرے ہوئے لوگوں کو راشن مطلوبہ مقدار میں مہیا نہیں ہو پا رہا
انہوں نے کہا کہ
ہماری ٹیم نے ہفتے کے روز موضع ہڑل منڈی احمد آباد میں مویشیوں کے لیے چارہ اور دریائے ستلج کے اندر بسو کے ضلع قصور، بھینی جان محمد ضلع قصور، کھرلاں والی بھینی اور مناف والی بھینی علاقہ موضع ہڑل میں 60 سے زائد خاندانوں میں راشن اور دیگر اشیائے خورو نوش 1122 کی کشتی کے ذریعے فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ میں میاں شکیل احمد وٹوآف ہڑل، سردار عدنان ڈوگر آف منڈی احمد آباد اور میاں اعجاز احمد وٹو آف ہڑل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے سیلاب میں گھری ہوئی ان آبادیوں کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ میاں شکیل احمد وٹو ہماری ٹیم کے ہمراہ بھی گئے۔

میاں محمد زمان وٹو نے کہا کہ سیلاب کی زد میں آنے والا زرعی رقبہ بالکل ناقابل کاشت ہو چکا ہے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے وزٹ کے دوران کچھ افسران کو یہ کہتے سنا کہ زیر آب رقبہ میں silt جمع ہونے سے رقبہ زرخیز ہو جائے گا لیکن یہ بیان قطعا مبنی بر حقیقت نہیں اورایسی سوچ ناقص غذائی منصوبہ بندی کی وجہ بنے گی۔

جن علاقوں سے سیلابی پانی پیچھے ہٹ گیاہے وہاں زرعی زمین پر ریت کی کئی فٹ اونچی تہہ جم چکی ہے ان زمینوں کو دوبارہ ہموار اور قابل کاشت بنانے میں سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے
انہوں نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق حکومت compensation پیکج میں زمین کی بحالی کے لیے رقم مختص کر رہی ہے تاہم یہ کاشتکاروں کے لیے مناسب incentive قطعا نہیں ہے اگر حکومت ابھی سے گندم کی اگلی فصل کے لیے امدادی یا indicative price کا اعلان کرتی ہے تو صرف اس صورت میں کسان کچھ رقبہ بحال کریں گے بصورت دیگر ان کے لیے گندم کی فصل کاشت کرنے کے لیے کوئی incentive نہیں ہو گا بلکہ دریائی علاقے کے لوگ مکئی کی کاشت کو ترجیح دیں گے جس سے آئندہ سال درپیش ہونے والا غذائی بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا

میاں محمد زمان وٹو اپنی ٹیم کے ہمراہ دریا ستلج پر متاثرین سیلاب کے لئےبڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں

آخر میں

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شایدکہ اتر جائےترےدل میں مری بات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں