ہائیکورٹ 56

اپ گریڈیشن کسی ملازم کا قانونی یا موروثی حق نہیں ‘ لاہو رہائیکورٹ

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیوں کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سات صفحات کے فیصلے کو عدالتی نظیر قراردیاگیاہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی تحریری فیصلے میں کہا کہ اپ گریڈیشن کسی ملازم کا قانونی یا موروثی حق نہیں ، پوسٹ اپ گریڈیشن کا معاملہ خالصتاًانتظامی پالیسی اور ایگزیکٹو اتھارٹی کا اختیار ہے،صرف کام کی نوعیت ایک جیسی ہونے سے کوئی ملازم اپ گریڈیشن کا حقدار نہیں بن جاتا۔فیصلے کے مطابق اپ گریڈیشن کا تعلق عہدے سے ہے، اس پر تعینات فرد سے نہیں،سروس کیڈرز کی تشکیل اور تنخواہوں کے سکیل کا تعین کرنا حکومت کا کام ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار اپنے عہدے کو اپ گریڈ شدہ منسٹریل کیڈر کا حصہ ثابت کرنے میں ناکام رہا،محض عہدوں کی مماثلت پر ایگزیکٹو کے پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مساوی سلوک کا حق صرف قانونی طور پر برابر عہدوں کے لیے ہے۔عدالت نے سرکاری ملازم کی محمد منیر کی رٹ پٹیشن میرٹ پر پورا نہ اترنے کی بنا ء پر خارج کر دی۔درخواست گزار نے گریڈ 7سے 14میں اپ گریڈیشن نہ ملنے کے اقدام کو چیلنج کیا تھا۔عدالت نے درخواست گزار کے خلاف دیئے گئے محکمے کے تمام سابقہ احکامات کو برقرار رکھاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں