بیجنگ ( رپورٹنگ آن لائن)چین کے سرکاری ادارے کی جانب سے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پہلے سات ماہ میں چین کی اشیاء کی تجارت کا کل حجم 30.13 ٹریلین یوآن رہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17.3 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں برآمدات 14 فیصد اور درآمدات 22 فیصد بڑھیں۔ رائٹرز اور دیگر غیر ملکی میڈیا کا خیال ہے کہ تحفظ پسندی کے بڑھتے رجحان اور عالمی تجارت کے اضافے میں سستی کے باوجود، “چین کے تجارتی اعداد و شمار توقع سے بہتر رہے” اور چین نے “مضبوط لچک ” کا مظاہرہ کیا، خاص طور پر “مصنوعی ذہانت سمیت جدید ترین شعبوں میں نمایاں کارکردگی ” دیکھنے میں آئی۔
چائنا رین مین یونیورسٹی کے پروفیسر وانگ شیاؤ سونگ نے کہا کہ چین کے پاس دنیا کا سب سے مکمل صنعتی نظام موجود ہے جو مؤثر سپلائی اور بڑے پیمانے پر درآمدات کو یقینی بناتا ہے اور تجارتی ترقی کی بنیاد رکھتا ہے۔ اسی دوران، چین کی سپر لارج مارکیٹ کا فائدہ، انوویشن سے چلنے والی برتری، اور کھلے پن کے فروغ کی پالیسیوں سے حاصل ہونے والے فوائد مسلسل ابھر کر سامنے آرہے ہیں اور مل کر تجارتی نمو کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
چین کی بیرونی تجارت مقدار کے لحاظ سے استحکام کے ساتھ تیزی سے ترقی کر رہی ہے ،جب کہ اس کے ڈھانچے میں “جدت اور سبز” کا رجحان بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ پہلے سات ماہ میں چین کی درآمدات کی شرح نمو برآمدات سے 8 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی، جس سے تجارت کی متوازن ترقی کے ذریعے “مارکیٹ کے فوائد” فراہم ہورہے ہیں ۔ چین کے لیے اعلیٰ معیار کی مصنوعات اور خدمات کی درآمدات بڑھانا انڈسٹریل اپ گریڈیشن اور صارفین کی بہتری کے لیے مفید ہے اور عوام کی بہتر زندگی کی خواہش کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے؛ تجارتی شراکت داروں کے لیے اس کا مطلب چینی مارکیٹ سے آرڈرز، روزگار اور ترقیاتی مواقع حاصل کرنا ہے۔ دنیا میں توانائی کی قلت اور پیداواری و سپلائی چینز کے شدید متاثر ہونے کے باوجود ، چین کی مستحکم پیداواری صلاحیت کی فراہمی نے دنیا کو ایک قیمتی یقین فراہم کیا ہے ۔
حالیہ دنوں میں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ، ڈوئچے بینک اور دیگر عالمی اداروں نے 2026 کےلیے چین کے جی ڈی پی نمو کی پیش گوئی کو بڑھایا ہے ۔ بین الاقوامی سروے کرنے والے کئی اداروں کے سرویز سے پتہ چلتا ہے کہ بیرونی دنیا میں چین کے بارے میں بہتر تاثر اور رائے رکھنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں تقریباً 4,800 غیر ملکی کمپنیوں نے چین میں مزید سرمایہ کاری کی، اور عملی اقدام سے چینی معیشت پر اپنے بھروسے کا اظہار کیا۔”چائنا اوپرچیونٹی 2.0″ مسلسل فوائد پیدا کر رہا ہے اور اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ “چین کے ساتھ چلنا ہی مواقعوں کے ساتھ چلنا ہے۔”









