لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول فی لیٹر قیمت 2 روپے 43 پیسے اضافے کے بعد 265 روپے 45 پیسے ، ڈیزل 3 روپے 2 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد اس کی قیمت 278 روپے 44 پیسے فی لیٹر ہوگی جبکہ مٹی کا تیل 3 روپے 34 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کے بعد اس کی نئی قیمت 185روپے 5 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے،حکمرانوں نے مسلسل مہنگائی میں اضافہ کرکے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ، ان ظالموں سے خیر کی توقع نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کا ہر شعبہ ایندھن پر انحصار کرتا ہے جس کی وجہ سے ایندھن کی قیمت میں اضافہ باقی تمام ضروریاتِ زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ملکی معیشت کا ایندھن پیٹرولیم مصنوعات ہوتی ہیں، اس کے مہنگا ہونے سے ہر شے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر مہنگی ہوجاتی ہے۔ جب تک ملک کی برآمدات میں اضافہ، روپے کی قدر میں مضبوطی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ نہیں ہوتا تب تک عوام کو ریلیف میسر نہیں آ سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایک سال کے دوران حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب کا اضافہ ہوا ہے جس کے سبب مجموعی قرض 84 ہزار ارب سے زا ئد ہوگیا۔معاشی سست روی کو قرضوں کی پائیداری کے لیے بڑا خطرہ ہے، پاکستان کے ذمے مجموعی قرضوں کا 67.7 فیصد ملکی قرض ہے۔
ہر پاکستانی اس وقت تین لاکھ 20 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو اس وقت کمر توڑ افراطِ زر، روپے کی قدر میں کمی اور خطرناک حد تک کم زرِمبادلہ ذخائرکا سامنا ہے۔ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے جہاں ملک سیاسی افراتفری، ماحولیاتی تباہی، بڑھتی مہنگائی، بے یقینی، دہشت گردی اور سخت معاشی بحران کا شکار ہے۔ پاکستان کا شمار ان پندرہ ممالک میں سے ہے جہاں افراطِ زر کی شرح ریکارڈ سطح پر ہے، ایسے حالات میں پریشان اور مہنگائی سے ستائے عوام کو حکومت سے ریلیف کی امید تھی۔
محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والا طبقہ متاثر ہے، غریب عوام کا جینا محال ہے۔ آٹے، چینی، تیل، گوشت، سبزیاں اور دیگر اشیا ضروریات کی قیمتوں میں سو فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ روزگار نہ ہونے کے برابر ہے، ملازمتوں کے مواقع بہت کم ہیں، پاکستان میں 40 فیصد سے زائد لوگ غربت سے بھی نچلے درجے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔








