چائنا 42

چین-پاک خلائی تعاون کا نیا باب وسیع و عریض کائنات میں کھل گیا

اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن)چائنا مینڈ اسپیس انجینئرنگ آفس نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ چینی مینڈ اسپیس پروگرام کے پہلے غیر ملکی خلابازوں کی منتخب فہرست اپریل کے اوائل میں جاری کی گئی، جس میں پاکستان کے دو امیدوار محمد زیشان علی اور خرم داؤد شامل ہیں۔ تمام تربیتی مراحل مکمل کرنے اور امتحانات پاس کرنے کے بعد، ان میں سے ایک سائنسدان پے لوڈ ایکسپرٹ کے طور پر چینی خلائی مشن میں حصہ لے گا اور چین کے اسپیس اسٹیشن پر جانے والا پہلا غیر ملکی خلاباز بن جائے گا

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وسیع و عریض کائنات کی دریافت تمام انسانیت کا مشترکہ خواب ہے، اور چینی خلائی پروگرام کا ایک مسلسل مقصد بھی۔ ستر سال کی لگاتار محنت کے بعد، چینی خلائی پروگرام نے صفر سے شروع کر کے آج خود انحصاری حاصل کی ہے، اور مصنوعی سیاروں، انسانی خلائی پروازوں سے لے کر ڈیپ اسپیس مشنز تک تاریخی پیش رفت کی ہے اور نمایاں کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

چین ہمیشہ مساوات، باہمی مفاد، پرامن استعمال، اور جامع ترقی کی بنیاد پر، آؤٹر اسپیس کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو گہرائی سے جاری رکھے گا۔ خلا بڑی طاقتوں کی کشمکش کا “میدان” نہیں ہے۔ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کھلے خلائی “دوستوں کے حلقے” کی تشکیل جاری رکھے گا، تاکہ انسانیت کے خلا کی تلاش کے مشترکہ مشن کو آگے بڑھایا جا سکے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خلا سب سے مہنگا “کلب” ہے۔ طویل عرصے سے، مینڈ اسپیس پروگرام چند ممالک تک محدود رہے ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشنز میں کئی ممالک شامل ہیں، لیکن اس میں داخلے کی شرائط سخت ہیں اور فیصلہ سازی کی طاقت مخصوص ممالک کے پاس مرتکز ہے، جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک اکثر “خلا کو دیکھ کر حسرت سے آہیں بھرتے ہیں”۔ پاکستانی امیدوار خلابازوں کی چین آمد اور تربیت، دنیا کے لئے پہلی دفعہ چین کے اسپیس اسٹیشن کے دروازے کھلنے کی علامت ہے، اور خلا کے اندر چین-پاک ہمہ موسمی دوستی کی تازہ ترین توثیق بھی ہے۔ چین-پاک خلائی تعاون کا آغاز 1990 میں ہوا، جب چین نے لانگ مارچ راکٹ کے ذریعے پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا۔

اس کے بعد، تعاون بتدریج سیٹلائٹ ڈویلپمنٹ، لانچ اور ڈیپ اسپیس ایکسپلوریشن سمیت متعدد شعبوں تک پھیل گیا۔ آج، چین نے فعال طور پر “تیان گونگ” (خلائی اسٹیشن) کا “ٹکٹ” پاکستان کے ہاتھ میں تھما دیا ہے، جو مغربی ترقی یافتہ ممالک کے “ہائی ٹیکنالوجی کی پابندی” کے پرانے تصور کو توڑتے ہوئے”مساوات اور اشتراک” کے نئے راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ کوئی احسان نہیں، بلکہ دہائیوں کے چین-پاک باہمی اعتماد اور تعاون کا قدرتی نتیجہ ہے، اور ” پوری انسانیت کے فائدے کے لیے خلا کے پرامن استعمال” کے نظریے کی عکاسی ہے۔

چین-پاک خلائی تعاون کبھی بھی یک طرفہ نہیں رہا بلکہ یہ حقیقی معنوں میں دو طرفہ شراکت داری کی مثال ہے۔ زمین سے خلا تک، مصنوعی سیارے سے مینڈ اسپیس پروگرام تک، دونوں ممالک کے درمیان تعاون ایک مکمل سلسلہ قائم کر چکا ہے۔ جب پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ ” آہنی دوستی کی گواہی” ہے، تو انہوں نے نہ صرف تشکر کا اظہار کیا، بلکہ ترقی پذیر ممالک کے باہمی تعاون اور خود انحصاری کے احساس کا اظہار بھی کیا۔ بالادستی اور تقسیم کے رجحانات کے باوجود چین اور پاکستان نے خلائی تعاون کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی رکاوٹیں ختم کر سکتی ہے اور تعاون تنہائی پر قابو پا سکتا ہے۔

ایک وقت تھا جب چینی خلائی پروگرام ابتدائی مراحل میں اکیلا جدوجہد کر رہا تھا، مصنوعی سیارے کے دور سے لے کر خلائی اسٹیشن تک، ہر قدم مشکل مگر مستحکم تھا۔ آج، “تیان گونگ” کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، اور وہاں خلابازوں کی مستقل موجودگی معمول بن چکی ہے ۔ چینی خلائی پروگرام اب صرف خود تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے اپنے دروازے دنیا کے لیے کھول دیے ہیں، اپنے نتائج شیئر کر رہا ہے اور تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان کو اولین شراکت دار کے طور پر منتخب کرنا نہ صرف آہنی دوستی کی علامت ہے بلکہ “جنوب-جنوب تعاون” کی ایک نمایاں مثال بھی ہے— چین کا مقصد کوئی نئی ٹیکنالوجی بالادستی قائم کرنا نہیں بلکہ عالمی خلائی وسائل کی فراہمی اور انسانیت کی مشترکہ خلائی جستجو میں شریک ہونا ہے۔

یقیناً اس پیش رفت پر تنقیدی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ کچھ لوگ کڑوے پن سے کہتے ہیں کہ “چین جیوپولیٹیکل خلائی کھیل کھیل رہا ہے”، تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں۔ چین-پاک خلائی تعاون میں چینی فریق نے کبھی بھی پاکستان پر اپنے نظام کو اپنانے کی شرط عائد نہیں کی بلکہ باہمی ضرورت کے مطابق حل پیش کیے ہیں۔ چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر تربیتی منصوبے اور تجرباتی پروٹوکول تیار کیے، جس میں ” بالا دستی یا تابع داری ” کا کوئی عنصر نہیں ہے۔

تجرباتی ڈیٹا دونوں ممالک کی مشترکہ ملکیت ہوگا، جو دونوں کے سائنسی تحقیق اور عوامی بہبود کے شعبوں میں استعمال ہوگا اور اس پر کوئی سیاسی شرطیں عائد نہیں کی گئی ہیں۔ یہ جیوپولیٹیکل کھیل نہیں، بلکہ سائنس و ٹیکنالوجی کی بھلائی کے لیے عمل ہے، ایک بڑی طاقت کی جانب سے دنیا کے سامنے ذمہ داری اور فرض شناسی کا اظہار ہے۔

1990 میں پاکستان کے پہلے مصنوعی سیارے کی لانچنگ سے لے کر 2026 میں پہلے دو غیر ملکی خلابازوں تک، چین-پاک خلائی تعاون کو چھتیس سال ہو چکے ہیں، جو زمین سے خلا تک پھیلا ہوا ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے خلابازوں کے انتخاب کے نتائج کے اعلان پر کہا: “اس سے پاکستان کا خلائی خواب ‘زمینی خواب’ سے ‘خلائی حقیقت’ میں بدل گیا ہے۔” جب پاکستانی خلاباز بالآخر “تیان گونگ” میں داخل ہوگا، تو وہ نہ صرف وسیع و عریض کائنات کو دیکھے گا، بلکہ ترقی پذیر ممالک کے خوابوں کو حاصل کرنے کا ایک روشن راستہ بھی دیکھے گا ، جہاں تصادم کے بجائے تعاون اور اجارہ داری کے بجائے شراکت داری کو ترجیح دی جاتی ہے۔

ستاروں اور کہکشاؤں کی دنیا کبھی بھی کسی ایک ملک کی ذاتی ملکیت نہیں رہی، بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ گھر ہے۔ چین نے “تیان گونگ” کا دروازہ کھول دیا ہے، چین اور پاکستان مل کر ستاروں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ قدم نہ صرف دوستی کی تکمیل ہے، بلکہ زمانے کا انتخاب بھی ہے ۔ ایک تقسیم شدہ دنیا میں، ہم نے رابطے کا انتخاب کیا ہے؛ شک و شبہ کے ماحول میں، ہم نے اعتماد کا انتخاب کیا ہے؛ بالادستی کے منطق کو چھوڑ کر، ہم نے جیت جیت کا انتخاب کیا ہے۔ یہ چینی خلائی پروگرام کا نقطہ نظر ہے، اور انسانیت کے روشن مستقبل کی امید بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں