کراچی بم دھماکوں 136

کراچی بم دھماکوں میں ایران ،لیبیا اور بھارت ملوث ہے ،سی ٹی ڈی حکا م

کراچی (رپورٹنگ آن لائن )سی ٹی ڈی حکا م نے کہا ہے کہ کراچی بم دھماکوں میں ایران ،لیبیا اور بھارت ملوث ہے ،را ملک میں دہشتگردی کرانے کیلئے رقم فراہم کررہی ہے، مارے جانے والا دہشتگرد اللہ ڈینو دس ہزار سے پچاس ہزار روپے تک روپے وصول کرکے بم دھماکے کرتا تھا ۔

دہشتگرد حیدر آباد میں دہشتگردی کی کارروائیاں کررہے تھے اور ریل کی پٹڑیاں اکھاڑ رہے تھے لیکن زیادہ دہشتگردی اور خوف وہراس پھیلانے کیلئے کراچی کاا نتخاب کیا گیا اس گیم سربراہ ایران میں چھپا ہوا ملک دشمن اصغر شاہ ہے ،کراچی یونیورسٹی خودکش حملے میں ملوث خاتون اور اس کے پیچھے چھپے حملہ آوروں کے بارے میں تحقیقات تیزی سے جاری ہے ، جلد ہی شواہد اکٹھے کرکے میڈیا کو اس بھارے میں اعتماد میں لیں گے ،جمعرات کے روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ٹی ڈی کے اعلیٰ حکام اور پیپلزپارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کی کارروائی کا مقصد صوبے کے امن وامان کو تباہ کرنا اورملک خوف وہراس پھیلانا تھا ۔

اس موقع پر سی ٹی حکام نے ایک آڈیو کلپ بھی میڈیا میں شیئر کیا جس میں اصغر شاہ مبینہ طور پر ہلاک ہونیوالے دہشتگرداللہ ڈینو کو دہشتگردی کے کارروائیوں کے بارے میں بریف کررہا تھا اس موقع پر کامران وہاب کہنا تھا کہ پولیس حکام سے جب بھی وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں امن وامان کوتباہ کرنے والے عناصر کے سرکوبی بارے میں سختی کی گئی تو حکام کا کہنا تھا کہ ہم جب بھی ایسے عناصر کو گرفتار کرتے ہیں تو ملک کی معزز عدالتیں ان کو ضمانتیں فراہم کردیتی ہیں انہوں نے مزیدکہا کہ میں اس موقع پر عدالتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ریاست دشمن عناصر کی ضمانت لینے میں احتیاط کی جائے جو معصوم شہریوں کے قتل اور دہشتگردی میں ملوث ہے ۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ میری میڈیااور سوشل میڈیا سے بھی درخواست ہوگی کہ وہ ملک دشمن عناصر کے خلاف ریاست کے بیانیے کو مضبوط کریں ایسے لوگ جو ملک سے فرار ہوکر بیرون ممالک بیٹھ کر سادہ لوح پاکستانیوںکو ملک میں دہشتگردی کے لئے اکسا رہے ہیں اس کا سد باب کیا جاسکے سی ٹی ڈی حکام نے اس موقع پر کہا کہ اس وقت دو لاکھ روپے کی ٹرانزکشن کے شواہد ملے ہیں باقی کے بارے میں ایجنسیاں چھان بین کررہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کراچی خودکش حملے میں اہم شواہد ملے جس پر مختلف ایجنسیاں کام کررہی ہے اس بارے میں صوبہ سندھ ، پنجاب اور بلوچستان حکومتوں سے رابطے میں ہے یہ بات کہنا غلط ہوگا کہ ایران دہشتگردی کے کارروائیوں کے پیچھے ہے لیکن دہشتگرد وہی سے ہینڈ ل کررہے ہیں اور اس دہشتگردی کی کارروائیوں میں را ملوث ہے ، جو ایران ، ابوظہبی ، لیبیا سے ہینڈ ل کررہی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں