انطالیہ (رپورٹنگ آن لائن)نائب وزیراعظم / وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہاہے کہ مشترکہ ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تجارت کے فروغ، بہتر رابطہ کاری اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
نائب وزیراعظم / وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر “تجارت کے ذریعے اعتماد سازی اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی انضمام اور استحکام کا مستقبل کے موضوع پر ہونے والے پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بے پناہ معاشی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود جنوبی ایشیا اب بھی باہمی اعتماد کے فقدان کے باعث دنیا کے کم ترین معاشی طور پر مربوط خطوں میں شمار ہوتا ہے،مشترکہ ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تجارت کے فروغ، بہتر رابطہ کاری اور عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خطے کی مجموعی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ جاری تنازعات اور کشیدگی نے توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات معیشتوں کے مختلف شعبوں تک پھیل رہے ہیں،یہ رکاوٹیں نہ صرف توانائی کے تحفظ سمیت روزمرہ زندگی کے اہم پہلوں غذائی تحفظ، مہنگائی اور مجموعی معاشی استحکام پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان چیلنجز کے حل سے خطے میں استحکام اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی ۔انہوں نے کثیرالجہتی نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی فریم ورکس اور باہمی تعاون کے علاقائی میکانزمز کے احترام کو ضروری قرار دیا۔
انہوں نے سارک ( اور اقوام متحدہ جیسے پلیٹ فارمز کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنازعے کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق خطے میں دیرپا امن و استحکام ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ڈائیلاگ، بین الاقوامی قانون اور جامع ترقی کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے، جو ایک مستحکم اور معاشی طور پر مربوط جنوبی ایشیا کی بنیاد ہیں۔









