محمد جاوید قصوری 15

پنجاب حکومت کے صحت کے شعبے میں بلندو بانگ دعوے، ہسپتالوں کی عملی صورتحال تشویشناک ہے’ جاوید قصوری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں نت نئی اسکیمیں متعارف کروانے اور بڑے بڑے اعلانات کے باوجود صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کی عملی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، عوام اپنے مریضوں کو لے کر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کے چکر لگانے پر مجبور ہیں جبکہ علاج معالجے کی بنیادی سہولیات کے فقدان اور انتظامی بے ضابطگیوں نے مریضوں اور ان کے لواحقین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا رپورٹس میں سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی معاملات میں مبینہ کرپشن اور بے قاعدگیوں کی طویل داستانیں سامنے آ رہی ہیں، جو صحت کے نظام کی کمزوری اور حکومتی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے محض اعلانات اور نئی اسکیموں کے آغاز کے بجائے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات، ادویات، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک حالیہ انکشاف کے مطابق بڑی تعداد میں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک مقدار پائی گئی ہے۔

بچوں میں سیسے کی آلودگی کا یہ مسئلہ حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ اس کے اثرات بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر مرتب ہو سکتے ہیں۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں عوام کو محض اعلانات، افتتاحی تقریبات اور نئی اسکیموں کی ضرورت نہیں بلکہ مؤثر، شفاف اور قابلِ رسائی علاج کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہسپتالوں کی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرے، کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے۔ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مریضوں اور ان کے لواحقین کو طویل قطاروں، ٹیسٹوں کی سہولت کے فقدان، ادویات کی عدم دستیابی اور عملے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایمرجنسی میں آنے والے مریض بھی بروقت توجہ نہ ملنے کے باعث گھنٹوں انتظار کرتے رہتے ہیں، جبکہ بعض اوقات عملے کی غفلت اور انتظامی بے حسی مریضوں کی تکلیف کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ حکومت صرف نئی اسکیموں کے اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے ہسپتالوں میں موجود بنیادی مسائل، عملے کی غفلت اور انتظامی بے قاعدگیوں کا فوری نوٹس لے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں