ڈاکٹر حسن احمد 16

پاکستان کے تربیت یافتہ سائنس دان بیرونِ ملک کیوں جا رہے ہیں؟ اہم اعداد و شمار غائب


*ڈاکٹروں اور دیگر پیشہ ور افراد کی بیرونِ ملک روانگی کے اعداد و شمار سامنے آگئے، لیکن لیبارٹریوں، ویکسین، ادویات اور بیماریوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کی تعداد اب بھی واضح نہیں۔*

*تحریر: حافظ حسن احمد*

پاکستان سے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے حالیہ اعداد و شمار نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا پاکستان اپنے تربیت یافتہ سائنس دانوں اور تحقیقی ماہرین کی نقل مکانی کا مکمل ریکارڈ رکھتا ہے؟ بالخصوص ان افراد کا، جو لیبارٹریوں میں کام کرتے ہیں، نئی ادویات اور ویکسین کی تیاری میں حصہ لیتے ہیں یا بیماریوں کی وجوہات اور علاج پر تحقیق کرتے ہیں؟

16 اکتوبر 2026 کو اے آر وائی نیوز کی ایک رپورٹ میں قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ 2024 سے 2026 کے دوران تقریباً 18 لاکھ 71 ہزار پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے۔ تاہم اس مجموعی تعداد کو صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد یا سائنس دانوں کی تعداد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی درست تشریح کے لیے متعلقہ سرکاری دستاویزات اور اعداد و شمار کی مزید جانچ ضروری ہے۔

### بیرونِ ملک جانے والے ہنرمند افراد کی تعداد کتنی ہے؟

پاکستان کے اقتصادی جائزے 2024-25 کے مطابق، 2024 میں بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہونے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد تقریباً 7 لاکھ 27 ہزار تھی۔ ان میں 19,587 افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور 29,437 افراد انتہائی ہنرمند افراد کے زمرے میں شامل تھے۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان سے مختلف مہارتوں کے حامل افراد بیرونِ ملک روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں سے کتنے افراد نے مائیکرو بائیولوجی، مالیکیولر بائیولوجی، بائیوٹیکنالوجی، بائیو کیمسٹری یا دیگر سائنسی شعبوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ کسی شخص کی تعلیمی قابلیت اور بیرونِ ملک اس کی ملازمت کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مالیکیولر بائیولوجی میں تعلیم یافتہ شخص بیرونِ ملک کسی دوا ساز کمپنی، تشخیصی لیبارٹری، یونیورسٹی یا تحقیقی ادارے میں کام کر سکتا ہے، لیکن سرکاری ریکارڈ میں اس کا اندراج کسی عمومی پیشہ ورانہ زمرے میں ہو سکتا ہے۔

### سائنس دانوں کی نقل مکانی پر اعداد و شمار کیوں ضروری ہیں؟

پاکستان میں بیماریوں کی تشخیص، نئی ویکسین کی تیاری، ادویات کی جانچ، زراعت میں بہتری اور صحتِ عامہ کے مسائل حل کرنے کے لیے تربیت یافتہ سائنسی ماہرین کی ضرورت ہے۔ ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، تجربات کرتے ہیں اور تحقیق کے ذریعے نئے حل تلاش کرتے ہیں۔

اگر ایسے ماہرین کی بڑی تعداد مستقل طور پر بیرونِ ملک منتقل ہو جائے اور ان کی جگہ نئے افراد تیار نہ کیے جائیں، تو مقامی جامعات، تحقیقی اداروں، ہسپتالوں اور دوا ساز صنعت کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ تجربہ کار محققین کی کمی سے نئے سائنس دانوں کی تربیت اور جدید تحقیق کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

تاہم اس نقصان کی درست پیمائش کے لیے صرف بیرونِ ملک جانے والے افراد کی تعداد جاننا کافی نہیں۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کتنے ماہرین واپس پاکستان آتے ہیں، کتنے بیرونِ ملک رہتے ہوئے پاکستانی اداروں کے ساتھ تحقیق کرتے ہیں اور کتنے افراد بین الاقوامی کمپنیوں کے ذریعے پاکستان میں نئی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری لانے میں مدد دیتے ہیں۔

### کیا بیرونِ ملک جانا پاکستان کے لیے فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے؟

بیرونِ ملک ملازمت اختیار کرنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ پاکستان کو نقصان ہی ہوگا۔ بہت سے افراد کو دوسرے ممالک میں بہتر تنخواہیں، جدید تحقیقی سہولیات، پیشہ ورانہ ترقی اور عالمی سطح کے اداروں میں کام کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے خاندانوں کو رقم بھیجتے ہیں، جس سے گھرانوں کے اخراجات پورے کرنے اور ملکی زرمبادلہ میں اضافے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ، بیرونِ ملک کام کرنے والے سائنس دان پاکستانی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کر سکتے ہیں، نوجوان محققین کی رہنمائی کر سکتے ہیں اور جدید سائنسی طریقوں سے مقامی اداروں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ملک اپنے تربیت یافتہ افراد کو مناسب ملازمتیں، تحقیقی سہولیات، میرٹ پر ترقی اور پیشہ ورانہ استحکام فراہم نہیں کر پاتا۔ ایسی صورت میں بیرونِ ملک جانا محض ذاتی انتخاب نہیں رہتا، بلکہ ملک کے تعلیمی، معاشی اور تحقیقی نظام کے لیے بھی ایک اہم سوال بن جاتا ہے۔

### پاکستان کو کن اعداد و شمار کی ضرورت ہے؟

پاکستان کے متعلقہ سرکاری اداروں کو چاہیے کہ بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہونے والے افراد کے پیشوں کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی قابلیت اور تخصص کے بارے میں بھی بہتر معلومات مرتب کریں۔ خاص طور پر ان شعبوں میں الگ اعداد و شمار کی ضرورت ہے:

– مائیکرو بائیولوجی اور مالیکیولر بائیولوجی کے ماہرین؛
– بائیوٹیکنالوجی اور بائیو کیمسٹری کے فارغ التحصیل افراد؛
– ویکسین، ادویات اور بیماریوں پر تحقیق کرنے والے سائنس دان؛
– تشخیصی اور تحقیقی لیبارٹریوں میں کام کرنے والے ماہرین؛
– جامعات اور سرکاری تحقیقی اداروں سے بیرونِ ملک جانے والے محققین۔

ایسے اعداد و شمار سے معلوم کیا جا سکے گا کہ پاکستان کن شعبوں میں تربیت یافتہ افراد کی کمی کا سامنا کر رہا ہے، کتنے افراد بیرونِ ملک مستقل ملازمت اختیار کرتے ہیں اور کتنے واپس آ کر ملک کی سائنسی ترقی میں حصہ لیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، جامعات، تحقیقی اداروں اور متعلقہ وزارتوں کو ایسے پروگراموں پر بھی غور کرنا چاہیے جن کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سائنس دان مقامی اداروں کے ساتھ تحقیق، تربیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں حصہ لے سکیں۔

### اصل سوال صرف ہجرت نہیں، پاکستان میں مواقع کی کمی بھی ہے

پاکستانیوں کا بیرونِ ملک روزگار حاصل کرنا بذاتِ خود کوئی منفی عمل نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ملک اپنے تربیت یافتہ افراد کو یہاں بھی ترقی کے مناسب مواقع فراہم کر رہا ہے اور کیا بیرونِ ملک جانے والے ماہرین کے تجربے سے پاکستان کو فائدہ پہنچانے کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے؟

اس وقت دستیاب عمومی اعداد و شمار سے یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ کتنے سائنس دان یا بائیوٹیکنالوجی کے ماہرین پاکستان چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ یہی معلومات کی کمی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگر ملک اپنے سائنس دانوں اور تحقیقی ماہرین کی نقل مکانی، واپسی اور پیشہ ورانہ ضروریات کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کرے، تو بہتر پالیسیاں بنانا ممکن ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ بیرونِ ملک کام کرنے والے افراد کے مواقع کا احترام کیا جائے، لیکن ساتھ ہی ایسے معاشی اور تحقیقی حالات بھی پیدا کیے جائیں جن میں وہ پاکستان میں رہ کر یا بیرونِ ملک سے تعاون کرتے ہوئے ملکی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

*آخرکار، سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے پاکستانی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکستان اپنے تربیت یافتہ سائنس دانوں کو یہاں کام کرنے، ترقی کرنے اور دنیا کے ساتھ مل کر نئی تحقیق کرنے کے کتنے مواقع فراہم کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں